
نیپال میں بدعنوانی کے خلاف اٹھنے والی جین زی نوجوانوں کی تحریک نے حکومت کا تختہ تو الٹ دیا مگر اب وہی نوجوان اپنے ہی لائے ہوئے حکمرانوں کی کارکردگی سے سخت مایوس دکھائی دیتے ہیں۔
نیپال میں گزشتہ سال نوجوانوں کے احتجاج کے نتیجے میں ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج سشیلا کارکی عبوری وزیراعظم کے طور پر سامنے آئی تھیں۔ عبوری حکومت نے رواں سال مارچ میں نئے انتخابات کا وعدہ کیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنے والے نوجوان اب عبوری سیٹ اَپ سے بھی ناخوش ہیں۔ پُرتشدد احتجاج، درجنوں ہلاکتوں اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کے نتیجے میں قائم ہونی والی عبوری حکومت کو وعدے پورے نہ کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔
جنریشن زی کا مطالبہ تھا کہ بدعنوان سیاست دانوں کو جیل بھیجا جائے اور ان کے اثاثوں کا احتساب ہو لیکن عبوری حکومت اب تک کسی بڑے سیاسی رہنما کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مارچ 2026 میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے نوجوانوں کے مختلف گروہوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بعض کا ماننا ہے کہ احتساب کے بغیر انتخابات محض ایک رسمی کارروائی ہوں گے۔
اس تحریک میں شامل ایک نوجوان مکیش آواستی نے ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اِس تحریک میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مکیش شدید زخمی ہوئے اور ان کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ انہوں نے اتنی بڑی قربانی دی، مگر اس جو مقصد تھا وہ پورا نہ ہوسکا۔
مکیش آواستی کا کہنا ہے کہ نئی حکومت بدعنوانی کے خاتمے میں ناکام رہی ہے اور نہ ہی مظاہرین پر فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔ ان کے مطابق یہ حکومت بھی عوام کو مایوس کر رہی ہے۔