امریکہ گرین لینڈ کے معاملے پر ڈنمارک سے بات چیت کے لیے تیار

امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے ڈنمارک کی حکومت کے ساتھ گرین لینڈ کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بار بار اس جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کی بات کی ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے امریکی فوجی آپشن ہمیشہ سے موجود ہے، اگر ضرورت پڑی تو وہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوجی راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

اس بیان کے بعد ڈنمارک نے معاملے کو حل کرنے کے لیے امریکی حکام سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔

ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارز لوکے راسموسن نے بتایا کہ گرین لینڈ کی حکومت اور ڈنمارک نے مشترکہ طور پر یہ ملاقات طے کی ہے تاکہ امریکی بیانات کی وضاحت ہو سکے اور کسی قسم کی غلط فہمی دور کی جا سکے۔

گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویویان موٹزفیلڈٹ نے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ اس ملاقات کا مقصد امریکہ کی طرف سے گرین لینڈ کے بارے میں کیے گئے سخت بیانات پر بات چیت کرنا ہے۔

راسموسن نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ملاقات اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ امریکہ کے ساتھ موجود غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے اور سب کچھ واضح ہو سکے۔

یورپی رہنماؤں نے بھی صدر ٹرمپ کو ایک مشترکہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ گرین لینڈ اور ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈریکسن نے کہا کہ اگر امریکہ گرین لینڈ پر حملہ کرتا ہے تو اس کا مطلب نیٹو اتحاد کا خاتمہ ہوگا اور دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم کی گئی سیکیورٹی بھی ختم ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکہ کو دنیا کے سب سے بڑے جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ چین اور روس کے آرکٹک میں بڑھتے ہوئے خطرات کے مقابلے میں اپنی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے منتخب امریکی قانون سازوں کو بتایا کہ امریکی انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ گرین لینڈ کو خرید لیا جائے، جو کہ ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے اور نیٹو کا حصہ بھی ہے، اور اس مقصد کے لیے فی الحال فوجی طاقت استعمال کرنا ترجیح نہیں ہے۔

یہ اقدامات امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان جغرافیائی سیاست میں نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں اور گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت خاص طور پر آرکٹک میں قدرتی وسائل اور سکیورٹی کے تناظر کو اجاگر کر رہے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles