
انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے حالیہ انٹرویو میں اشارہ دیا ہے کہ پلیٹ فارم مستقبل میں طویل ویڈیوز اور پریمیم مواد میں سرمایہ کاری کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ صارفین کی دلچسپی بڑھائی جا سکے اور ٹک ٹاک جیسے دیگر پلیٹ فارمز کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کی جا سکے۔
موسیری کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام کی موجودہ حکمت عملی شارٹ کنٹینٹ پر مبنی ہے، جو صارفین کی فوری دلچسپیوں کو پورا کرتی ہے۔ لیکن مستقبل میں لمبی ویڈیوز متعارف کرانا ضروری ہو سکتا ہے تاکہ صارفین کا وقت اور توجہ زیادہ دیرپا رہے۔
انہوں نے معروف ڈیجیٹل نیوز اور تجزیاتی پلیٹ فارم ’سیمیفور‘ کو بتایا کہ ”ہمارے پاس پریمیم مواد اور لانگ فارم ویڈیوز کی ضرورت پڑ سکتی ہے“۔ یہ تبدیلی نئی آمدنی کے ذرائع کھولے گی، جیسے سبسکرپشن ماڈلز یا کریئٹرز پیڈ مواد۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ انسٹاگرام کا طویل ویڈیو ماڈل یوٹیوب جیسا نہیں ہوگا، کیونکہ انسٹاگرام کے پلیٹ فارم پر صارفین مستقل اور مختلف مواد دیکھنے کے عادی ہیں۔
انسٹاگرام کی نئی حکمت عملی میں صرف موبائل فونز تک محدود رہنا نہیں ہے۔ حال ہی میں انسٹاگرام نے ’فائر ٹی وی‘ کے لیے انسٹاگرام ٹی وی ایپ متعارف کرائی ہے، جو بڑے اسکرین پر ریلز دیکھنے اور شیئر کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
مزید برآں، موسیری نے مستقبل کے لیے سمارٹ گلاسز اور دیگر پہننے والے ڈیوائسز کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلی دہائی میں سمارٹ گلاسز فونز کی جگہ لے سکتے ہیں اور انسٹاگرام کے استعمال کے طریقے بدل سکتے ہیں، جس میں مکسڈ رئیلٹی اور ہینڈز فری تجربات اہم ہوں گے۔
موسیری نے یہ بھی کہا کہ ”یہ ایک ویژوئل پلیٹ فارم کے لیے بڑا سوال ہے کہ صارفین کی زیادہ تر بات چیت آڈیو پر مبنی ہو تو ہم کس طرح ان تجربات کو ڈیزائن کریں گے۔“
یہ واضح ہے کہ انسٹاگرام اپنے مستقبل کو شارٹ فارم مواد سے آگے لے جانے اور نئے تکنیکی تجربات کے ساتھ صارفین کی وابستگی بڑھانے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔