اسرائیل کا ایران پر ایک بار پھر حملے کا منصوبہ، امریکی میڈیا کا دعویٰ

اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک اور بڑے حملے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کا دعویٰ امریکی میڈیا نے کیا ہے۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران پر ایک بار پھر حملے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم 29 دسمبر کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے، جس کے دوران ایران پر ممکنہ حملوں سے متعلق اہم بریفنگ دیے جانے کا امکان ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم اس ملاقات میں صدر ٹرمپ کو ایران کی موجودہ سرگرمیوں، خاص طور پر جوہری تنصیبات کی دوبارہ تعمیر اور میزائل پروگرام میں توسیع سے آگاہ کریں گے۔

ادھر اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران تیزی سے اپنی جوہری تنصیبات بحال کر رہا ہے اور اپنے میزائل پروگرام کو وسعت دے رہا ہے، جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ایران ایسے اقدامات کر رہا ہے جن کے نتیجے میں وہ جلد ہی ماہانہ بنیادوں پر ہزاروں میزائل تیار کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کی یہ صلاحیت خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ سکتی ہے اور اسرائیل کے لیے براہِ راست خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ متوقع ملاقات کے دوران اسرائیلی وزیراعظم ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے امریکی قیادت کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے بڑھتے ہوئے عسکری اور جوہری پروگرام کو فوری اور سنجیدہ خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles