’ اگر کوئی فوجی بھی ریاست کے خلاف بغاوت کرے گا تو اسے سزا ملے گی’


سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد ملک کی مختلف سیاسی شخصیات نے اس فیصلے کو ریاستی احتساب کے عمل میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں۔
فوجی عدالت کی جانب سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو سزا سنائے جانے کے اعلان پر ملک کے سیاسی حلقوں نے بھرپور ردِعمل دیا ہے۔
آزاد سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں ’کوئی شخص قانون سے بالاتر نہیں‘، چاہے وہ کسی طاقتور ادارے سے ہی کیوں نہ تعلق رکھتا ہو۔
فوج کے سابق لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اگر کوئی فوجی بھی ریاست کے خلاف بغاوت کرے گا تو اسے سزا ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیض حمید نے ایک سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر سیاسی ماحول میں بے چینی پیدا کی، اور اب اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
جنرل (ر) فیض حمید کو سزا سنائے جانے کی افواہیں
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے کا ٹرائل تقریباً پندرہ ماہ تک جاری رہا اور فیض حمید کو بھرپور قانونی دفاع مہیا کیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید پر عائد الزامات کی تفصیلات
ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ثابت ہوا کہ سابق جنرل سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے رہے اور پاکستان تحریکِ انصاف کے غیر سرکاری مشیر کے طور پر کردار ادا کرتے تھے۔
فیض حمید کو کم سے کم 14 سال قید کی سزا ہوگی، فیصل واوڈا
عطا تارڑ کے مطابق فوج کے اندر احتساب کا پورا عمل ہمیشہ شفافیت کے ساتھ ہوتا ہے، اور یہی شفافیت اس فیصلے میں بھی دیکھنے کو ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ اداروں میں خود احتسابی کا نظام مضبوط ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles