
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سی این این پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وارنر برادرز ڈسکوری کی خریداری کی جاری کشمکش میں یہ یقینی بنایا جائے کہ سی این این کو یا تو نئے مالکان کے حوالے کیا جائے یا اسے فروخت کر دیا جائے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں کاروباری شخصیات سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی نیوز چینل سی این این پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو وارنر برادرز ڈسکوری کی فروخت کے معاملے میں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سی این این کی ملکیت لازمی طور پر تبدیل ہو۔ انہوں نے کہا کہ سی این این کو یا تو ڈیل کا لازمی حصہ بنایا جائے یا پھر اسے الگ سے فروخت کر دیا جائے۔
ٹرمپ نے الزام لگایا کہ چینل کے موجودہ انتظامی امور جانبداری پر مبنی ہیں اور موجودہ ٹیم کے تحت کام جاری رہنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینل کی ریٹنگز انتہائی کم ہیں اور اسے قابلِ بھروسہ ادارہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
وارنر برادرز ڈسکوری اس وقت پیرا ماؤنٹ اور نیٹ فلکس کے درمیان جاری بولی کی دوڑ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اگر پیرا ماؤنٹ کی پیشکش قبول ہوتی ہے تو سی این این ایلیسن خاندان کے زیرِ اثر جا سکتا ہے، جبکہ نیٹ فلکس کی ڈیل کے مطابق وارنر برادرز ڈسکوری اسٹوڈیو اور اسٹریمنگ آپریشنز فروخت کرنے سے قبل سی این این سمیت دیگر کیبل نیوز نیٹ ورکس الگ سے فروخت کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس ڈیل کی منظوری کے حوالے سے حکومتی فیصلے میں خود کردار ادا کریں گے، جو کہ عمومی طور پر امریکی محکمۂ انصاف کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بولی میں شامل دونوں فریق وائٹ ہاؤس اور ٹرمپ سے رابطے میں ہیں تاکہ اپنی پیشکش کے حق میں حمایت حاصل کر سکیں۔
سی این این اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ رہے ہیں۔ ٹرمپ اکثر سی این این اور دیگر بڑے میڈیا ہاؤسز کو ”فیک نیوز“ قرار دیتے ہیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
ادھر پیرا ماؤنٹ کے سربراہ ڈیوڈ ایلیسن کی جانب سے حال ہی میں صحافی باری وائس کو سی بی ایس نیوز کا ایڈیٹر انچیف مقرر کیا گیا ہے، جسے امریکی قدامت پسند حلقے میڈیا میں مبینہ تعصب کے خلاف مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ ایلیسن کے عہدہ سنبھالنے سے کچھ روز قبل ٹرمپ مخالف پروگرام ”دی لیٹ شو وِد اسٹیفن کولبیئر“ بھی ختم کر دیا گیا تھا۔
تاہم ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر پیرا ماؤنٹ اور ایلیسن کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے ان کی سیاسی اتحادی سے ناقد بننے والی مارجرے ٹیلر گرین کا انٹرو نشر ہونے کی اجازت دی۔
دوسری جانب نیٹ فلکس کے بانی ریڈ ہیسٹنگز ڈیموکریٹک پارٹی کے بڑے مالی معاون سمجھے جاتے ہیں، جس کے باعث اس ڈیل میں سیاسی اثرات بھی نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔
سی این این نے تاحال امریکی صدر کے تازہ بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔