
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں اہم ملاقات جاری ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں ایک ایسے تجارتی معاہدے کی توقع کی جا رہی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان جاری طویل تجارتی جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق یہ ملاقات اس وقت ہو رہی ہے جب صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ حکومت کا آغاز کیا ہے۔ اپنے حالیہ معاشی اقدامات کے تحت انہوں نے دنیا کے متعدد ممالک پر ٹیرف عائد کیے تھے، جن میں چین کو سب سے زیادہ معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
مئی میں عارضی طور پر ایک سمجھوتہ طے پایا تھا جس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے جوابی ٹیرف میں کمی کی تھی، جو اس وقت 100 فیصد سے تجاوز کر گئے تھے۔ تاہم، چین کو چِپس (microchips) تک رسائی اور امریکا کو نایاب دھاتوں (rare earth metals) تک رسائی کے مسائل نے دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھا دی۔
صدر ٹرمپ اور صدر شی نے ملاقات کے آغاز میں گرم جوشی سے مصافحہ کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا، “آپ سے دوبارہ مل کر خوشی ہوئی۔” جس پر صدر شی نے غزہ میں حالیہ سیز فائر کے سلسلے میں صدر ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا، “ہم آپ کو اس کامیاب جنگ بندی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔”
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ٹیرف، اسمگلنگ، معدنیات تک رسائی، اور ٹک ٹاک کی امریکہ میں سرگرمیوں سمیت متعدد اہم موضوعات زیرِ بحث ہیں۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان آج ہی ایک نیا تجارتی معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ “امریکا اور چین کے درمیان پہلے ہی بہت سے معاملات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور امید ہے کہ آج مزید امور پر بھی پیش رفت ہوگی۔”
صدر شی جن پنگ نے کہا، “چین اور امریکا کو ایک دوسرے کا دوست ہونا چاہیے۔ ہماری تجارتی ٹیموں کے درمیان بنیادی نکات پر اتفاقِ رائے پہلے ہی ہو چکا ہے۔”
یہ ملاقات بوسان کے ایک محفوظ مقام پر ہو رہی ہے، جہاں ایئرپورٹ کے قریب سخت سیکیورٹی اقدامات، خار دار تاریں اور چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ میڈیا نمائندگان اور پولیس کی بھاری موجودگی اس ملاقات کی عالمی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آج معاہدہ طے پا گیا تو یہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان تناؤ میں کمی اور عالمی منڈیوں میں استحکام کی سمت ایک اہم پیش رفت ہوگی۔