
کراچی میں ای چالان سسٹم کے آغاز کے ساتھ ہی دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی۔ شارع فیصل پر نصب کیمروں سے شہریوں کے چالان شروع ہوئے، مگر اس نظام نے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کی گاڑی کا چالان لیاری ایکسپریس وے پر جاری کر دیا، جہاں کیمرے نصب ہی نہیں۔
سندھ پولیس کا نیا ای چالان سسٹم 28 اکتوبر کو متعارف کرایا گیا، جس کے تحت شارع فیصل پر پانچ مقامات پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کرنے اور فوری چالان جاری کرنے کا نظام نصب کیا گیا۔
ٹریفک پولیس کے مطابق صرف چھ گھنٹوں میں ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کے چالان کیے گئے۔
تاہم، اس نظام کی ساکھ پر اس وقت سوال اٹھا جب ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے زیرِ انتظام سرکاری گاڑی کا چالان لیاری ایکسپریس وے گارڈن انٹرچینج پر درج ہو ا، حالانکہ ای چالان نظام صرف شارع فیصل کے لیے فعال تھا۔
پولیس کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے پی آر او نے جلد بازی میں یہ خبر خود میڈیا کو نشر کرنے کے لیے فراہم کی، جس کے بعد معاملہ منظرِ عام پر آیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چالان صرف شارع فیصل پر ہونے تھے تو پھر لیاری ایکسپریس وے پر سرکاری گاڑی کا چالان کیسے ہوا؟
ٹریفک پولیس نے اب تک کے ای چالان سسٹم کے ٹرمز آف ریفرنس (ToRs) بھی میڈیا کو جاری نہیں کیے، جس سے نظام کی شفافیت پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔
شہری حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ نظام عام شہریوں کے لیے تو سختی سے نافذ کیا گیا ہے
کہیں موٹروے کی طرح پولیس افسران دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے چالان سے مستثنٰی ہوں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ابتدائی دن میں ہی یہ واقعہ “چراغ تلے اندھیرا” کی مثال بن گیا، جہاں قانون نافذ کرنے والے خود اپنے ہی قانون کے شکنجے میں آ گئے۔
واضح رہے کہ کراچی میں متعارف کرائے گئے خودکار ای چالان سسٹم کے تحت ڈی آئی جی ٹریفک کی سرکاری گاڑی کا بھی چالان ہوا ۔
واقعہ گارڈن انٹرچینج پر اُس وقت پیش آیا جب ڈرائیور نے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی۔ ڈی آئی جی پیر محمد شاہ نے تصدیق کی کہ ان کی گاڑی کے خلاف 10 ہزار روپے کا چالان ہوا ہے۔