
شہر قائد میں الیکٹرانک چلان کے نفاذ کے بعد شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اوور اسپیڈنگ، سیلٹ بیلٹ نہ لگانے، ہیلمٹ نہ پہننے اور دیگر خلاف ورزیوں پر بڑی تعداد میں شہریوں کو ہزاروں روپے کے چلان کا سامنا کڑنا پڑا ہے۔
ای چلان سسٹم فعال ہونے کے ابتدائی چھ گھنٹوں میں ہی شہریوں کو سوا کروڑ روپے کے چالان بھیج دیے گئے، جس پر شہریوں نے اپنے سر پکڑ لیے۔
کونسی خلاف ورزی کا کتنا جرمانہ ہوگا؟
ٹریفک پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سے اسپیڈ کی حد تجاوز کرنے پر پانچ ہزار روپے کا چلان ہوگا، حد سے زیادہ کار تیز چلائی تو 10 ہزار روپے چلان جمع کرانا ہوگا۔
بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے پر 10 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔ ون ویلنگ اور خطرناک ڈرائیونگ پر پچاس ہزار روپے تک بھاری جرمانہ ہوگا، جبکہ ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے پر 25 ہزار سے 50 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
ٹریفک سگنل توڑنے پر 5 سے 15 ہزار روپے تک جرمانہ، چار ڈیمیرٹ پوائنٹس کٹیں گے۔
جیپ چلا کر اسپیڈ کی حد توڑی گئی تو 10 ہزار روپے دینا پڑیں گے اور اگر جیب کو رانگ وے پر لائے تو 50 ہزار روپے دینا ہوں گے، جبکہ ایل ٹی وی سے اسپیڈ حد توڑنے پر 15 ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔
ڈمپر، ٹریلر یا بسیں تیز چلائی گئیں تو بیس ہزار کا چلان ہوگا اور اگر بسوں یا ٹرکس پر زیادہ سامان بھرا گیا تو اس صورتحال میں 50 ہزار روپے کا بھاری چلان عائد ہوگا۔
موٹر سائیکل سوار کو غلط سمت میں چلانے پر 25 ہزار روپے کا چلان ادا کرنا ہوگا جبکہ گاڑی غلط سمت دوڑانے پر 30 ہزار روپےکا چالان ہوگا۔
کوئی ٹرک، ڈمپر یا ٹریلر ون وے پر غلط سمت سے آیا تو ایک لاکھ روپے کا بھاری چلان ہوگا۔
اس کے علاوہ کالے شیشے (ٹنٹڈ گلاس) پر 25 ہزار روپے جرمانے کے ساتھ چھ ڈیمیرٹ پوائنٹس ملیں گے۔
پریشر یا میوزیکل ہارن کے استعمال پر سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فٹنس سرٹیفیکیٹ کے بغیر گاڑی چلانے پر 20 سے 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
انشورنس کے بغیر گاڑی چلانے پر دس ہزار روپے جرمانہ، غیر رجسٹرڈ گاڑی چلانے پر 25 ہزار روپے تک جرمانے کے ساتھ آٹھ پوائنٹس کٹیں گے۔
چھت پر مسافر بٹھانے یا خطرناک پوزیشن میں سفر کرانے پر بیس ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ بچوں کے اسکول بس کے سامنے نہ رکنے پر سخت سزا دی جائے گی جبکہ ٹریفک پولیس کے اشارے نہ ماننے پر 15 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔ رات کے وقت ناقص یا بند لائٹس کے استعمال پر پانچ سے 15 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔
اس کے علاوہ ایمبولینس کو راستہ نہ دینے پر 5 سے 20 ہزار کا جرمانہ ہوگا، اوورٹیکنگ کرنے پر 5 سے 20 ہزار روپے چلان ادا کرنا ہوگا۔
گاڑیوں کی قطار سے نکل کر آگے آئے تو 20 ہزار روپے تک کا جرمانہ دینا ہوگا، اور ایمبولینس یا ایمرجنسی گاڑی کے زیادہ قریب کار یا موٹرسائیل چلائی گئی تو اس صورت میں بھی 20 ہزار جرمانہ ہوگا۔
ریلوے ٹریک غلط طریقے سے عبور کرنے پر 5 سے 20 ہزار جرمانہ عائد ہوگا۔
واضح رہے کہ کراچی میں ای چالان کا سسٹم نافذ ہونے کے بعد مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، ٹریفک پولیس کی جانب سے ای چلان کے نظام کے باضابطہ افتتاح کے بعد مجموعی طور پر 2 ہزار 662 الیکٹرانک چالان جاری کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایک شہری کی شکایت پر ای چالان کے خلاف متعلقہ اداروں کو ایڈووکیٹ جہانگیر شمس نے قانونی نوٹس بھیج دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے موجودہ حال میں اس سسٹم پر عملدرآمد ممکن نہیں ہے۔