کراچی: پولیس حراست میں نوجوان کی ہلاکت، تشدد کے بجائے قتلِ خطا کا مقدمہ درج


کراچی میں پولیس حراست میں نوجوان کی ہلاکت کا مقدمہ تشدد کے بجائے سرکاری کی مدعیت میں قتلِ خطا کے زمرے میں درج کرلیا گیا ہے۔ جبکہ ورثاء اپنی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں۔
کراچی میں سی آئی اے کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی حراست میں نوجوان کی مبینہ طور پر پولیس تشدد سے ہلاکت کے معاملے میں نیا موڑ آگیا ہے۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں قتلِ خطا (غلطی سے قتل) کے زمرے میں درج کرلیا ہے، جب کہ مقتول کے ورثا اپنی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرانا چاہتے ہیں۔
صدر تھانے میں درج مقدمے کے مطابق تفتیشی افسران اے ایس آئی عابد اور سرفراز عرفان سے تفتیش کر رہے تھے کہ اچانک وہ بے ہوش ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکا۔

کراچی میں سی آئی اے یونٹ کی حراست میں نوجوان کی ہلاکت: پولیس تشدد پر سوالات اٹھ گئے
مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں 6 اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے، جس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”زیر حراست افراد کے خلاف درج مقدمہ مشکوک تھا“۔
واضح رہے کہ کراچی میں بائیس اکتوبر کی شب ایس آئی یو کی زیرحراست مبینہ تشدد سے نوجوان محمد عرفان کی ہلاکت ہوئی تھی، جس کا مقدمہ آج سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
تاہم ورثاء قتل کا مقدمہ اپنی مدعیت میں درج کرانے کے لیے لاش کے ہمراہ سہراب گوٹھ ایدھی سردخانے کے باہر دھرنا دیے بیھٹے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles