
بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس بلاول ہاؤس کراچی میں ہوا، جس میں وفاقی حکومت کو بطور اتحادی مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ سانحہ کارساز سمیت جمہوریت کے تمام شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
بلاول ہاؤس کراچی میں پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی سے متعلق تمام چیلنجز کو سمجھتی ہے، پاکستان نے معرکۂ حق میں بھارت کو تاریخی شکست دی۔
میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سانحہ کارساز میں جیالے ہماری ڈھال بنے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ دہشت گردی کی مخالفت کی اور ہم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت کا ساتھ دیا ہے، ہم نے حکومت سازی میں کوئی مراعات نہیں مانگیں، نہ وزارتیں لیں، البتہ ہم سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے حکومت کو مزید وقت دیا گیا ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ ہمیں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مسائل پر تشویش ہے، پیپلز پارٹی وہاں سیاسی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف اور امداد کا مطالبہ کیا ہے، بلاول بھٹو نے خود متاثرہ علاقوں کے دورے کیے، وفاقی حکومت نے ان کی تجاویز کو تسلیم کیا۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان کاشتکاروں کو پہنچا، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں گندم کے مناسب ریٹ دیے جائیں۔ امید ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے متاثرین کو امداد فراہم کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا آج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کامیابی کو تسلیم کرتی ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے سیاسی چپقلش کے حوالے سے اپنے تحفظات بھی پیش کیے اور کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے اس سلسلے میں براہِ راست وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔
ندیم افضل چن نے کہا کہ بجلی مہنگی ہونےکی وجہ سےانڈسٹریز بند ہو رہی ہیں، وفاق کی ایمرجنسی پرپنجاب حکومت نےعمل نہیں کیا، ہم نے وفاقی حکومت سےعوامی مسائل پر بات کی۔
اجلاس میں صدر آصف علی زرداری، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، سینیٹر رضا ربانی، اعتزاز احسن، فاروق ایچ نائیک، سید قائم علی شاہ، منظور وسان، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، سعید غنی اور عبدالقادر پٹیل سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔