شام میں بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے پر عوامی سطح پر جشن منایا گیا۔ جشن کی تقریب میں حیات تحریر الشام کے رہنما محمد الجولانی کے ساتھ خوبصورت لڑکی تصاویر نے سب کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ انٹرنیٹ پر صارف پوچھ رہے ہیں کہ یہ لڑکی کون ہے؟
شام کے عوام نے جمعہ کے روز مقامی مسجد میں نماز کے بعد فتح کا جشن منایا اور مسجد کے قریب ایک بڑے چوک پر جمع ہوئے۔ تقریب میں محمد الجولانی بھی شریک ہوئے اور تقریب کے شرکا نے ان کے ساتھ تصویریں بنوائیں۔
یوں تو محمد الجولانی نے سینکڑوں تصاویر بنوائی لیکن ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس میں انہیں ایک شامی لڑکی کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔
ایک تصویر کی دلکش بات یہ ہے کہ جب شامی لڑکی نے الجولانی سے تصویر بنوانے کی خواہش کی تو تحریر الشام کے رہنما محمد الجولانی نے لڑکی کی خواہش کا احترام کیا اور ساتھ ہی اپنی فرمائش بھی کر ڈالی۔

انہوں نے لڑکی سے کہا کہ وہ اپنے بال ڈھانپ لے اور تب ہی تصویر بنوائے گا۔ لڑکی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر وضاحت کی کہ الجولانی نے اسے تصویر کے دوران صرف اپنے بال ڈھانپنے کو کہا تھا اس سے پہلے نہیں۔
لڑکی نے یہ بھی بتایا کہ بہت سی خواتین اور لڑکیوں نے حجاب کے بغیر فتح کے جشن میں شرکت کی اور انہوں نے ”آزادی دلانے“ پر باغیوں کا شکریہ ادا کیا۔
محمد الجولانی کون ہیں؟
دمشق پر قبضے کے دوران ’ہیئت تحریر الشام‘ کا نام سامنے آیا لیکن اس کے سربراہ ابو محمد الجولانی کا کردار پراسرار ہی رہا تھا لیکن لیکن دمشق پر باغیوں کے قبضے کے بعد اب ہر جانب اُن کے نام کی گونج ہے۔
واضح رہے کہ الجولانی القاعدہ سے بھی منسلک رہے ہیں، تاہم 2016 میں اُنہوں نے اس سے راہیں جدا کر لی تھیں۔ دمشق پر کنٹرول کے بعد ابو محمد الجولانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ”اب مستقبل ہمارا ہے۔“
اُن کے اس بیان کے بعد خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسد فیملی کے 50 سالہ دور کے خاتمے کے بعد شام کی قیادت میں اُن کا مرکزی کردار ہو گا۔
الجولانی 1982 میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پیدا ہوئے جہاں اُن کے والد ملازمت کے لیے گئے تھے تاہم بعد ازاں اُن کی پرورش دمشق کے قریب ہوئی۔ اُن کے بقول ابو محمد الجولانی اُن کا جہادی نام جب کہ اصل نام احمد حسین ہے۔