دنیا بھر میں معاشی غیر یقینی، پاکستان میں سونے کی قیمت فی تولہ ساڑھے 4 لاکھ سے اوپر جانے کا امکان

دنیا بھر میں معاشی غیر یقینی حالات کے باعث سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ بدھ کے روز عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا پہلی بار چار ہزار ڈالر سے اوپر چلا گیا۔

ایک اونس میں تقریباً 2.43 تولہ ہوتا ہے، اس حساب سے ایک تولہ سونا تقریباً 1646 ڈالر یعنی پاکستانی تقریباً 4 لاکھ 57 ہزار 600 روپے فی بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سرمایہ کار موجودہ کشیدہ حالات میں سونا خرید کر اپنے پیسے کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں۔ امریکا میں شرحِ سود میں مزید کمی کی توقعات نے بھی سونے کی قیمت کو اوپر دھکیلا ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق عالمی منڈی میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.7 فیصد بڑھ کر 4011 ڈالر فی اونس جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت 4033 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔

سونے کی عالمی قیمت میں 2025 کے آغاز سے اب تک 53 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو اگلا بڑا ہدف پانچ ہزار ڈالر فی اونس ہوسکتا ہے۔

AAJ News Whatsapp

تجزیہ کاروں کے مطابق سونے کی قیمت بڑھنے کی اہم وجوہات میں عالمی قرضوں میں اضافہ، سیاسی بے چینی، ڈالر کی کمزوری اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونا خریدنا شامل ہیں۔

امریکا میں جاری حکومتی شٹ ڈاؤن نے بھی سرمایہ کاروں کو پریشان کر رکھا ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے اہم معاشی رپورٹس تاخیر کا شکار ہیں۔ اب مارکیٹ یہ توقع کر رہی ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو رواں ماہ اور دسمبر میں شرحِ سود میں مزید کمی کرے گا۔

دوسری جانب، فرانس اور جاپان میں سیاسی بحران نے بھی سونا خریدنے کا رجحان بڑھا دیا ہے۔ جاپان میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کے بعد اضافی اخراجات کے خدشے نے مارکیٹ کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔

دیگر قیمتی دھاتوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ چاندی 48 ڈالر، پلاٹینیم 1658 ڈالر، اور پیلیڈیم 1361 ڈالر فی اونس تک جا پہنچا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو آنے والے سالوں میں سونا مزید مہنگا ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles