ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ منصوبے سے یوٹرن، پاکستان نے اپنا بیانیہ تبدیل کرلیا؟


پاکستان نے ایک بار پھر 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ دہرا دیا ہے۔ تاہم، یہ مطالبہ ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبے سے متصادم ہے، جس کی وزیراعظم نے حمایت کی تھی۔
جمعرات کو دفتر خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی اس جائز جدوجہد کے ساتھ کھڑا ہے جس کا مقصد اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کا حصول اور ایک ایسی آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل ریاستِ فلسطین کا قیام ہے جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

دفتر خارجہ کا یہ بیان وزیراعظم کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کی حمایت کی تھی۔

اس 20 نکاتی منصوبے میں غزہ کو آزاد ریاست کے بجائے اسرائیل کے زیر انتظام علاقے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
وزیراعظم کے بیان پر تنقید کے بعد اسحاق ڈار کی جانب سے وضاحت جاری کی گئی پاکستان نے جو مجوزہ نکات بھیجے تھے وہ شامل نہیں کئے گئے۔ تاہم، ان نکات کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔
بعدازاں، تنقید میں شدت آنے پر اسحاق ڈار نے ایک پریس کانفرنس کی جس میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس شریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کا مطالبہ دہرایا۔

1967 میں کیا ہوا تھا؟
1967 کی چھ روزہ جنگ کے بعد اسرائیل نے سینائی جزیرہ نما، غزہ، مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور شامی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا تھا، جس سے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں تین گنا اضافہ ہوا۔ اسرائیل نے بعد ازاں مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں کو اپنا حصہ ظاہر کرتے ہوئے الحاق کا اعلان کیا تاہم عالمی برادری نے ان اقدامات کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔
صرف ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکا وہ پہلا بڑا ملک بنا جس نے اسرائیل کے ان اقدامات کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔ اس کے باوجود دنیا کی اکثریت آج بھی مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں کو مقبوضہ علاقے قرار دیتی ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم آزاد فلسطیبنی ریاست کے قیام کو مسترد کرچکے ہیں۔ انہوں نے غزہ سے اپنی افواج نکالنے سے بھی انکار کردیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles