فلم تھری ایڈیٹ کے حقیقی کردار ’فنسک وانگڑو‘ پر پاکستان کے لیے پروپیگنڈے کا الزام

بھارت کے زیر انتظام لداخ میں کشیدگی شدت اختیار کرگئی ہے جہاں چند روز قبل ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے پر سرگرم سماجی کارکن اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو گرفتار کیا گیا ہے، جن پر پاکستان کے لیے پروپیگنڈہ کرنے اور پاکستان و بنگلہ دیش کے مشتبہ عناصر سے رابطے رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق لداخ کے ڈی جی پی ایس ڈی سنگھ جموال نے بتایا کہ سونم وانگچک پاکستان میں ”ڈان“ نامی تقریب میں بھی شریک ہوئے تھے اور انہوں نے ریاستی مطالبے کے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔

سونم پر نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت سخت الزامات عائد کیے گئے ہیں، جس کے تحت انہیں طویل عرصے تک بغیر ضمانت کے رکھا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، ان کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

سونم وانگچک نے حال ہی میں لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کے مطالبے کے دوران بھوک ہڑتال کی اور مظاہروں میں پولیس کے ساتھ تصادم ہوا، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

بھارتی حکومت نے پرتشدد واقعات کا ذمہ دار سونم وانگچک کو قرار دیتے ہوئے انہیں گرفتار کیا۔ ان پر مظاہرین کو اکسانے اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

لداخ کے معروف انجینئر، ماہر تعلیم اور ماحولیات کے سرگرم کارکن سونم وانگچک کی زندگی نے 2009 میں بالی ووڈ کی سپرہٹ فلم ’تھری ایڈیٹس‘ میں مرکزی کردار ’فن سوک وانگڑو‘ یا ’رانچو‘ کی تخلیق کو متاثر کیا تھا۔

این ڈی ٹی وی موویز کی رپورٹ کے مطابق فلم ’تھری ایڈیٹس‘ میں عامر خان کا کردار ’رانچو‘ ایک ذہین، آزاد خیال انجینئرنگ طالب علم کا تھا جو اپنے دوستوں کو خوابوں کی پیروی اور سماجی دباؤ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔

فلم کے کئی یادگار مناظر لداخ کے خوبصورت علاقے میں فلمائے گئے تھے، جن میں پینگونگ جھیل کا کلائمیکس اور ڈروک وائٹ لوٹس اسکول شامل ہے، جو حقیقی زندگی میں سونم کا کام کرنے والا ادارہ ہے۔

سونم وانگچک یکم ستمبر 1966 کو لداخ کے علاقے الچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے SECMOL اسکول قائم کیا، جس نے روایتی تعلیمی نظام کو چیلنج کیا اور مقامی طلبہ کی تعلیمی کامیابیوں کو بڑھایا۔

انہوں نے ہمالیہ کے ماحول کے مطابق تعلیم دینے کے لیے HIAL کا قیام بھی کیا۔ ان کی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور 2018 میں انہیں رامن مگسائی ای ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ بھی انھیں کئی اعزازات سے نوازا گیا۔

سونم وانگچک کی گرفتاری پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مقامی لوگ سیاسی مخالفت کو دبانے کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں ان واقعات میں اشتعال انگیزی اور مظاہرین کو اکسانے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور گرفتار کیا۔

سونم وانگچک جس نے اپنے علاقے کی تعلیم، ماحولیات اور سماجی اصلاح کے لیے کام کیا اور آج وہ اپنی ہی حکومت کی سیاسی کشیدگی کا مرکز بن چکا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles