امریکی اور یورپی تنقید درست نکلی، روسی جنگی ڈرونز میں بھارتی پرزے استعمال ہونے کا انکشاف

یوکرین پر حملے کے لیے استعمال ہونے والے روسی ڈرونز میں بھارتی پرزے استعمال ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوکرینی صدر کے اعلیٰ عہدیدار اندری یرماک نے منگل کے روز انکشاف کیا کہ کیف نے روسی ڈرونز میں بھارتی ساختہ پرزوں کی نشاندہی کی ہے جو یوکرین پر حملوں کرنے کے لیے استعمال ہوئے۔

یوکرینی حکام کی جانب سے بھارتی پرزوں کی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

تاہم رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

یوکرینی صدر زیلنسکی کے چیف آف اسٹاف انڈریئی یرمک نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ یہ ڈرونز یوکرین کی فرنٹ لائنوں اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔

جولائی میں روسی افواج کے خارکیو پر حملے

جولائی میں، روسی افواج نے خارکیو پر 103 فضائی حملے کیے تھے، جن میں سے 81 حملے شاہد (Shahed) قسم کے ڈرونز کے ذریعے کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں 164 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں 20 بچے بھی شامل تھے۔

ٹرمپ کے نئے ٹیرف نافذ العمل، موٹی موٹی باتیں جو آپ جاننا چاہیں گے

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق وشے انٹرٹیکنالوجی اور آورا سیمی کنڈکٹر کے الیکٹرانک پرزے بھارت میں اسمبل یا تیار کیے جاتے ہیں، جنہیں روس شاہد 136 (Shahed 136) حملہ آور ڈرونز کی تیاری میں استعمال کرتا ہے۔

گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (GTRI) کے بانی اجے سریواستو نے ہندوستان ٹائمز کو بتایا کہ یہ پرزے غیر ملکی خریداروں کے ذریعے ایران کو دوسرے ممالک کے راستے منتقل ہو سکتے ہیں، جہاں انہیں ڈرونز میں اسمبل کیا جاتا ہے۔

اجے سریواستو کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکومت دوہری استعمال کی اشیا کی ممنوعہ مقامات پر برآمد کو سختی سے روکتی ہے۔ تاہم جب ایسی اشیا قانونی تیسرے ممالک کو برآمد کی جاتی ہیں، تو ان کے استعمال کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

روس کو حساس معلومات فراہم کرنے کی کوشش کے الزام میں امریکی فوجی گرفتار

یوکرینی انٹیلی جنس نے اپریل میں پہلی بار روسی ہتھیاروں میں بھارتی ساختہ پرزوں کی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ روس نے امریکی پرزوں پر اپنی انحصاری کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل نیٹ ورک ”ٹروتھ سوشل“ پر بھارت سے درآمدی مال پر 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا کیونکہ بھارت روسی تیل کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles