پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلادھار بارش نے تباہی مچا دی


پنجاب میں مون سون بارشوں سے تباہی مچا دی، جہلم، لیہ اور چکوال سمیت مختلف مقامات پر دیہات سے پانی کی نکاسی نہ ہوسکی۔ جہلم میں پانی گھروں، ڈیروں اوراسکولوں میں داخل ہوگیا، کھڑی فصلیں،اجناس اورمویشیوں کا چارا خراب ہوگیا ۔۔ متاثرین بے بسی کی تصویر بن گئے۔
پنجاب کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ جہلم، لیہ، چکوال، راجن پور اور دیگر مقامات پر پانی کی نکاسی نہ ہو سکی جس کے باعث گھروں، کھیتوں اور اسکولوں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔ اس سے کھڑی فصلیں، اجناس اور مویشیوں کا چارہ خراب ہو گیا ہے اور متاثرین بے بسی کی تصویر بن گئے ہیں۔
جہلم میں شدید بارش کے باعث پانی گھروں، ڈیروں اور اسکولوں میں داخل ہو چکا ہے جس سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ فصلوں کی تباہی اور مویشیوں کے چارے کی بربادی نے علاقے کے لوگوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
کمالیہ شہر اور اس کے گرد و نواح کے نشیبی علاقے بارش کے پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ کئی علاقوں میں فیڈر ٹرپ ہونے کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہے جس سے عوام کو اضافی مشکلات کا سامنا ہے۔
لیہ میں تونسہ پل کا گائیڈ بند ٹوٹ جانے کی وجہ سے پانی بستیوں میں داخل ہو گیا ہے، جس سے مقامی رہائشیوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا ہے۔ متاثرین نے حکام سے فوری امداد کا مطالبہ کیا ہے۔
راجن پور کے پہاڑی علاقے میں موسلا دھار بارش کے بعد سیلابی نالے کاہا سلطان میں تیس ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہا ہے، جس کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گڈو اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، جس کی وجہ سے ماہی گیروں کی بستیاں ڈوب گئی ہیں اور حفاظتی بندوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس سے سیلاب کے مزید پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles