
گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ میں خیبرپختون خوا حکومت نہیں گرا رہا لیکن تحریک عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا حق ہے، وزیراعلی کو خواب میں بھی گورنر ہاؤس نظر آتا ہے، سندھ میں ان کا مفت علاج کرا دیتا ہوں، نااہل حکومت نے صوبہ دہشت گردوں کے حوالے کر دیا۔
آج نیوز کے پروگرام ”ربرو“ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صوبائی حکومت نہیں چلا رہے اور اگر اپوزیشن تحریک عدم اعتماد لانا چاہے تو یہ ان کا جمہوری حق ہے۔
آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سانحہ سوات جیسے اندوہناک واقعے پر موجودہ پی ٹی آئی حکومت نے کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اٹھایا۔ انہوں نے علی امین گنڈاپور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سیاست نہیں چھوڑنی چاہیے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ واقعی اپنی قیادت اور بانی کے ساتھ سنجیدہ بھی ہیں؟
فیصل کریم کنڈی نے بلین ٹری سونامی منصوبے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ”پوچھتا ہوں، بلین ٹریز کہاں ہیں؟“ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو خواب میں بھی گورنر ہاؤس نظر آتا ہے، اگر ان کی حالت واقعی ایسی ہے تو وہ ان کا علاج سندھ میں مفت کرانے کو تیار ہیں، جہاں صحت کارڈ کے بغیر بھی علاج ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ان کا احترام کا رشتہ ہے، تاہم موجودہ نااہل حکومت نے صوبے کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، جو ایک لمحۂ فکریہ ہے۔