سانحہ دریائے سوات کی تحقیقاتی رپورٹ میں سارا ملبہ سیاحوں پر ڈال دیا گیا


سانحہ سوات پرتحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ دریا میں پانی کا رخ تبدیل کردیا گیا تھا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جائے حادثہ میں پانی کی سطح کم تھی اور سیاح وہاں پہنچے، کمشنر ملاکنڈ نے صوبائی تحقیقاتی ٹیم کو سوات سانحہ کی تحقیقاتی رپورٹ ارسال کردی۔
کمشنر ملاکنڈ کی جانب سے سانحہ سوات کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ صوبائی تحقیقاتی ٹیم کو ارسال کر دی گئی ہے، جس میں کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سانحہ کے مقام پر دریا کی سطح کم تھی اور سیاح محفوظ سمجھ کر وہاں پہنچے تھے، تاہم افسوسناک واقعے سے قبل دریا کا پانی دانستہ طور پر ایک طرف موڑا گیا تھا جس سے خطرہ بڑھ گیا۔
سانحہ سوات: چئیرمین انکوائری کمیٹی کا مختلف محکموں کی کوتاہیوں کا اعتراف
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیلابی خطرات کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا تھا اور ”سیلاب کنجنٹنسی پلان 2025“ مئی میں تیار کر لیا گیا تھا۔ اس کے باوجود واقعہ رونما ہوا، جس پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔
کمشنر ملاکنڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خراب موسم کے بارے میں متعدد مرتبہ وارننگز موصول ہوئیں جنہیں متعلقہ اداروں کو پہنچا بھی دیا گیا تھا۔
مزید کہا گیا ہے کہ ممکنہ ایمرجنسی کی صورت میں افسران کو ڈیوٹیاں پہلے ہی تفویض کی جا چکی تھیں اور دریا کنارے تجاوزات کے خلاف کارروائی کا فیصلہ بھی سیلاب سے پہلے کیا جا چکا تھا۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ 2 جون سے ملاکنڈ ڈویژن میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی، جس کے تحت دریا میں نہانے اور کشتی رانی پر مکمل پابندی عائد تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ سانحے سے قبل ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی جانب سے الرٹس کے باوجود مکمل عملدرآمد نہ ہونے کی وجوہات کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا پابندیوں کے باوجود سیاح جائے حادثہ تک کیسے پہنچے اور مقامی سطح پر کن ذمہ داران کی غفلت کا عنصر شامل تھا۔
صوبائی تحقیقاتی ٹیم اس رپورٹ کی روشنی میں مزید چھان بین کر رہی ہے، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ آئندہ چند دنوں میں سامنے آ سکتا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles