
دریائے سوات میں تجاوزات کے خلاف آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا، 40 عمارتیں گرا دی گئیں۔ سابق گورنر غلام علی کے ٹاؤن میں عارضی کمرے بھی مسمارکر دیے گئے۔ پی ٹی آئی رہنما کا شادی ہال بھی 4 گھنٹے میں خالی کرنے کی مہلت دی گئی۔ لاپتہ لڑکے کی چھٹے روز بھی تلاش جاری ہے۔
سوات میں فضاکٹ سانحے کے بعد دریائے سوات کے کنارے قائم تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ اور مقامی اداروں کا آپریشن دوبارہ شروع ہو گیا۔ کارروائی کے دوران اب تک 40 سے زائد عمارتیں مسمار کر دی گئی ہیں، جب کہ تجاوزات کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔
حکام کے مطابق، آپریشن کے دوران سابق گورنر حاجی غلام علی کے ذاتی ٹاؤن میں عارضی کمروں کو بھی گرا دیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی سلیم الرحمان کے ملکیتی شادی ہال کو خالی کرنے کے لیے چار گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔
مزاحمت کرنے والے 4 افراد کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا، ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی سیاسی یا سماجی وابستگی کو کارروائی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا جائے گا۔
ادھر دریائے سوات میں لاپتہ لڑکے کی تلاش چھٹے روز بھی جاری ہے۔ ریسکیو اداروں نے جدید طریقے استعمال کرتے ہوئے ڈرون کے ذریعے لائف جیکٹس پہنچانے کی مشق بھی کی، تاکہ آئندہ ممکنہ ہنگامی صورتحال میں فوری امداد فراہم کی جا سکے۔
دوسری جانب نوشہرہ، صوابی، شانگلہ اور ہری پور میں موسلا دھار بارش کے باعث مختلف مقامات پر ندی نالوں میں طغیانی دیکھی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دریاؤں میں نچلے درجے کا سیلاب آ چکا ہے اور نشیبی علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ضلعی حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں کے کنارے رہائش یا تعمیرات سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔