
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) نے نئے مالی سال 2025-26 کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ کیا، جہاں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز کے آغاز میں ہی بینچ مارک ”کے ایس ای-100“ انڈیکس میں 1700 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
منگل کی صبح 10 بج کر 5 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 1721.41 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 27 ہزار 348.72 کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو 1.37 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے مختلف کلیدی شعبہ جات میں بھرپور خریداری دیکھی گئی، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکنگ، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، اور بجلی پیدا کرنے والے ادارے شامل ہیں۔
وزارت خزانہ کا معاشی آؤٹ لک جاری، ترسیلات زر میں 28.8 فیصد اضافہ ریکارڈ
بڑے سائز کے اسٹاکس جیسے کہ حبکو (HUBCO)، ماری پیٹرولیم (MARI)، پی آر ایل (PRL)، پی او ایل (POL)، ایم سی بی (MCB)، میزان بینک (MEBL) اور نیشنل بینک (NBP) سبز نشان میں ٹریڈ کر رہے تھے۔
یاد رہے کہ پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مالی سال 2024-25 کے اختتام پر بھی زبردست تیزی کے ساتھ دن مکمل کیا۔ یہ تیزی مالی سال کے اختتامی سرمایہ کاری فلو، ادارہ جاتی سرگرمیوں میں اضافے اور بیرونی مالیاتی معاونت کی خوشخبریوں کے باعث ممکن ہوئی، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔
پیر کے روز مارکیٹ بند ہونے تک کے ایس ای-100 انڈیکس میں 1248.25 پوائنٹس یعنی 1 فیصد کا اضافہ ہوا، اور انڈیکس 1 لاکھ 25 ہزار 627.31 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ مارکیٹ کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
حکومت نے عوام پر پیٹرول بم گرا دیا، قیمتوں میں بڑا اضافہ
ماہرین کے مطابق ملکی معیشت کے استحکام، بجٹ میں متوازن پالیسیوں، اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی جانب سے ممکنہ تعاون کے تناظر میں سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ مارکیٹ میں سرگرم ہو رہے ہیں، جو مارکیٹ کی موجودہ تیزی کی اہم وجہ ہے۔