پاکپتن ڈسٹرکٹ اسپتال میں ایک ہفتے میں 20 بچوں کی موت نے کئی سوال کھڑے کر دیے


پاکپتن ڈسٹرکٹ اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں ایک ہفتے کے دوران20 بچوں کی جانیں چلی گئیں۔ ان میں 15 نومولود بھی شامل تھے، 7 بچوں کی ہلاکت پر بنائی گئی انکوائری کمیٹی نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا، اسپتال کے ڈاکٹرز اور نرس پر مُشتمل کمیٹی نے اموات کو طبعی قرار دے دیا۔
پاکپتن ڈسٹرکٹ اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں ایک ہفتے کے دوران 20 معصوم بچوں کی ہلاکت نے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان میں سے 15 نومولود بچے تھے، جن کی موت پر اہلِ خانہ اور مقامی کمیونٹی شدید غم و غصے کا شکار ہے۔
ریسکیو 1122 کی ایمبولینس میں بچے کی پیدائش
حکومت نے 7 بچوں کی ہلاکتوں کے بعد ان واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں اسپتال کے ڈاکٹرز اور نرسز شامل تھے۔
اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں ان اموات کو طبی وجوہات سے منسوب کرتے ہوئے ’طبی نوعیت‘ کا قرار دیا ہے، لیکن اس فیصلے نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے اور نیا ’پنڈورا باکس‘ کھول دیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles