بشار الاسد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے، روس کا دعویٰ

روسی حکام نے شامی صدر بشار الاسد کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ وہ شام چھوڑنے سے پہلے اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ شام کے صدر نے محل چھوڑنے سے قبل حکام کو اقتدار کی پرامن منتقلی کی بھی ہدایت کی تھی، بشار الاسد نے عہدہ صدارت اور ملک چھوڑنے کا فیصلہ پہلے ہی کرلیا تھا۔

بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے مانگ لیا

دوسری جانب چین نے امید ظاہر کی ہے کہ شام میں حالات جلد معمول پر آجائیں گے۔

ادھر مصر نے تمام فریقین سے ملک کے استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی ہے۔

جرمنی نے صدر بشار الاسد کی طویل حکمرانی کے خاتمے کو شام کے عوام کے لیے خوشی کی خبرقرار دیا ہے۔

حال ہی میں منتخب ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا شام کے تنازعہ سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے، امریکا کو اس معاملے میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

ترکی میں قونصل خانے سے شامی پرچم اتار دیا گیا

علاوہ ازیں بشار الاسد کے صدارت چھوڑنے کے بعد اسرائیلی فوج شام کے شہر قنیطرہ میں داخل ہوگئی ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کو سابق صدر کی فوج کے اسلحہ پر قبضے سے روکیں گے، تاہم شامی باغی اسرائیل کے ساتھ جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles