پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قادر خان مندوخیل کا مدارس رجسٹریشن بل پر جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولان افضل الرحمان کی شکایات پر کہنا ہے کہ مدارس وزارت تعلیم کے تحت ہیں اور وزارت تعلیم صوبائی چیپٹر ہے۔
قادر خان مندوخیل نے آج نیوز کے پروگرا ”دس“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد تمام تعلیمی، صحت اور کئی دیگر ادارے صوبے کے ماتحت ہیں، مدارس وزارت تعلیم کے تحت ہیں اور وزارت تعلیم صوبائی چیپٹر ہے، اسلام آباد میں ایک آدھ کالج کے علاوہ اور کوئی ہے ہی نہیں، وزیر تعلیم ایسے ہی بیٹھا رہتا ہے، پیپلز پارٹی نے اعتراض بھی کیا ہے کہ وفاقی اداروں کی وزارتوں کو ختم کیا جائے۔
ہمارے مدرسوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلا جارہا ہے، اسٹبلشمنٹ اور بیوروکریسی پر کوئی اعتماد نہیں، فضل الرحمان
انہوں نے کہا کہ مدارس رجسٹریشن بل کو صدر مملکت نے جوائنٹ سیشن میں بھیجا ہے، جوائنٹ سیشن ہونے دیں، اس میں کوئی چیز نکالنی ہے یا کچھ ڈالنا ہے تو وہ یقیناً مولانا فضل الرحمان صاحب اور تمام پارلیمنٹ کے سامنے ہوگا۔
{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
ان کا کہنا تھا کہ یہ اتنا بڑا ایشو نہیں ہے کہ اس کیلئے احتجاج کی کال دی جا رہی ہے۔
پیچیدگیوں کی وجہ سے مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں وقت درکار ہے، وزیر مذہبی امور
قادر مندوخیل نے بل پر مولانا فضل الرحمان کی جلد بازی کے حوالے سے سوال پر کہا کہ جب ایک شخص بیٹھنے کو تیار ہی نہیں ہے اور دو دن انتظار نہیں کرسکتا تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا، بہرحال مولانا فضل الرحمان کی اپنی سیاست ہے ان کو جیسے بہتر لگے وہ کرسکتے ہیں۔