آزاد کشمیر: متنازع صدارتی آرڈیننس کے خلاف تیسرے روز بھی ہڑتال، معمولات زندگی درہم برہم


جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آزاد کشمیر بھر میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا تیسرا روز ہے، جس کے باعث معمولات زندگی درہم برہم ہیں۔
جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے عوامی احتجاج روکنے کے لیے جاری متنازع صدارتی آرڈیننس کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے، عوام بڑی تعداد میں انٹری پوائنٹس کی جانب مارچ کررہے ہیں۔
پی ٹی آئی احجتاج روکنے پر ڈیڑھ ارب خرچ، پنجاب پولیس کا حکومت سے رقم فراہمی کا مطالبہ
ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر متنازعہ صدارتی آرڈیننس واپس نہ لیا گیا تو ریاست بھر سے عوام مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے۔
مظفرآباد ڈویژن کے اضلاع نیلم اور جہلم ویلی سے قافلے مظفرآباد پہنچ گئے ، قیادت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبر شوکت نواز میر کر رہے ہیں۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی کے ایکشن کمیٹی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے ہیں تاہم ابھی تک ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
ایکشن کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ متنازعہ صدارتی آرڈیننس کی واپسی کے ساتھ اس قانون کے تحت گرفتار کیے گئے افراد کو فوری طور رہا کیا جائے۔
دوسری جانب مظفر آباد میں مذاکرات کے دور کے بعد حکومتی وزرا نے کہاکہ مذاکرات کا عمل جاری ہے، جلد کوئی نتیجہ نکلے گا۔
علاوہ ازیں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال تیسرے روز بھی جاری رہی، باغ شہر اور مضافات میں اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہوگئی ، شہری مشکلات کاشکار ہیں، مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles