
سربراہ جمعیت علما اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، بس کرسی پر بیٹھنے کو کافی سمجھتے ہیں، امن وامان کے لئے گورنر راج مستقل حل نہیں ہے، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائیں گے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان جامعہ سعدیہ پشاور کا دورہ کیا اور سابق ایم این اے و جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے مرکزی امیر مولانا خلیل احمد مخلص کی وفات پر ان کے صاحبزادے مولانا محمد قاسم سے تعزیت کی اور فاتحہ خوانی کی۔
مدارس رجسٹریشن بل پر جے یو آئی کی حکومت کو 8 دسمبر کی ڈیڈ لائن
اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں الیکشن دھاندلی زدہ تھے ، موجودہ حکومت غیر قانونی و غیر آئینی ہے، بس زبردستی والی حکومت ہے، اگر کوئی تبدیلی آئے گی تو ہم اسکا حصہ نہیں ہونگے۔
{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن وامان کے لئے گورنر کے پی کو اس لئے اجلاس بلانا پڑا کیونکہ صوبے کا ایگزیکٹو صلاحیت سے محروم ہے۔
ہمیں بتایا گیا مدارس کی رجسٹریشن کے خلاف بین الاقوامی دباؤ ہے، اسلم غوری
سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن کا قیام گورنر کے بس کی بات نہیں ، ہم تمام اسٹیک ہولڈرز اور مذہبی جماعتوں کیساتھ مل کر حکمت عملی بنائیں گے، موجودہ حالات کا گورنر راج بھی مستقل حل نہیں ہے۔