
پاکستان نے بھارتی فوج کے اعلیٰ افسر کی جانب سے سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر حملے کے الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کا سکھوں کے مذہبی مقامات پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ ہی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت خود 6 سے 7 مئی کو متعدد مذہبی مقامات پر حملے کر چکا ہے اور اب اپنی کاروائیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز بھارتی فوج کی 15 انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میجر جنرل کارتک سی شیشادری نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان نہ صرف فوجی اڈوں بلکہ مذہبی مقامات، خصوصاً گولڈن ٹیمپل کو نشانہ بنانے کی نیت رکھتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر بھارت نے گولڈن ٹیمپل کے گرد جدید فضائی دفاعی نظام نصب کیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جا سکے۔
پاکستان نے آپریشن ”بنیان مرصوص“ میں شاہین میزائل استعمال کرنے کی بھارتی میڈیا رپورٹس مسترد کردیں
ترجمان دفتر خارجہ نے اس بیان کو مضحکہ خیز اور بھارتی ریاستی پراپیگنڈے کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذہبی مقامات کے تقدس کا احترام کیا ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان خود مذہبی رواداری کا علَم بردار ملک ہے، اور سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور راہداری جیسا تاریخی اقدام پاکستان کی سنجیدگی اور اخلاص کا ثبوت ہے۔
{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
بھارت نے امریکی ثالثی مکمل مسترد کردی: پاکستانی کی جوہری دھمکی یا اثاثوں پر حملے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، وکرم مسری
پاکستانی حکام کے مطابق بھارت عالمی برادری کی توجہ اپنی اندرونی بدامنی اور اقلیتوں کے خلاف مظالم سے ہٹانے کے لیے پاکستان پر جھوٹے الزامات لگا رہا ہے۔