
حالیہ پاک بھارت تصادم کے تناظر میں پاکستان کی مؤثر اور دفاعی حکمت عملی نے نہ صرف بھارتی جارحیت کو پسپا کیا بلکہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی مستقبل پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ مودی حکومت کو داخلی سطح پر ناکامیوں، عالمی دباؤ اور مسلسل سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔
پاکستان کی طرف سے کی جانے والی جوابی کارروائیاں اس قدر مؤثر اور مہلک تھیں کہ بھارت کو پسپائی اختیار کرتے ہوئے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرنا پڑی۔ تاہم، جنگ بندی کے معاہدے کے فوری بعد ہی بھارت نے اپنی روایتی چالاکی دکھاتے ہوئے اس سے انحراف کی راہ اختیار کی۔
مودی کا فالس فلیگ آپریشنز؛ غیورسکھوں کا بھارت کیخلاف کھڑے ہونے کا اعلان
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے ایک غیر جانبدار تیسرے ملک میں مذاکرات کی شرط کو تسلیم کرنے کے باوجود چند گھنٹوں کے اندر ہی اس سے انکار کر دیا۔ یہی نہیں، کنٹرول لائن پر بھاری گولہ باری کرکے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کی گئی، جو معاہدے کی روح کے منافی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت، وزیر خارجہ مائیک روبیو کی کوششیں، اور سعودی عرب، قطر، و متحدہ عرب امارات جیسے دوست ممالک کی حمایت سے عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی۔ لیکن بھارت کے سیکرٹری خارجہ وکرم مصری کے حالیہ بیان کے مطابق یہ جنگ بندی محض ایک ’عارضی انتظام‘ ہے، جس کا جائزہ لیا جائے گا اور پیرکو دوبارہ بات ہوگی۔
پہلگام حملے کا مودی کو پہلے سے علم تھا، بھارتی کانگریس کے صدر کا دھماکہ خیز انکشاف
معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بھارتی تضاد بیانی اور عملی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔