
بھارت کی سیاسی جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما تیج پرتاپ سنگھ یادو نے اپنے پارٹی کارکنوں کے ساتھ ہولی مناتے ہوئے پولیس افسر کو ناچنے کا حکم دے دیا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اسے معطل کر دیا جائے گا۔
تیج پرتاپ نے لوگوں سے بھری ہولی کی تقریب میں پولیس افسر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اے سپاہی، آج ہولی کا تہوار ہے، ہم ایک گانا بجائیں گے، تمہیں اس پر ٹھمکا لگانا ہے۔ بہار کے سابق وزیر نے پولیس افسر کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ اگر وہ رقص نہیں کرے گا تو اسے معطل کر دیا جائے گا۔
واقعہ پر بھارتی سیاسی رہنما تیج پرتاپ کو لوگوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے، اور عوامی سطح پر پولیس افسر کے ساتھ توہین آمیز سلوک ان دنوں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔
** بی جے پی اور اتحادی کانگریس کی تیج پرتاپ پر کڑی تنقید**
راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیج پرتاپ سنگھ یادو کی جانب سے پولیس افسر کو رقص کا حکم دینے پر جے ڈی یو، بی جے پی اور اتحادی کانگریس نے ان پر سخت تنقید کی ہے۔ ان پارٹیوں نے تیج پرتاپ کے اس اقدام کو نا مناسب اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کو اپنی حدود میں رہ کر اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
جنتا دل متحدہ (جے ڈی یو) کے رہنماؤں نے کہا کہ تیج پرتاپ کو قانون کا احترام کرنا چاہیے، جبکہ بی جے پی نے اسے ”قانون کی کھلی خلاف ورزی“ اور ”حکومتی عہدوں کا غلط استعمال“ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب کانگریسی رہنمائوں نے بھی تیج پرتاپ کی اس حرکت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے، سیاسی رہنما اس حرکت پر معافی مانگیں۔