
بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی سے مسلسل رابطہ قائم رکھا اور ہر ممکن معاونت کی یقین دہانی کراتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وفاقی وزیرداخلہ نے جعفر ایکسپریس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور بلوچستان حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔
محسن نقوی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رہیں گی اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے مؤثر آپریشن کی تحسین کی۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، بلوچستان میں قیام امن کے لیے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا اور یہ تعاون جاری رکھا جائے گا۔
وفاقی وزیرداخلہ نے وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کو دلیر اور محنتی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما مل کر دہشت گردوں کا صفایا کریں گے اور اس بات کا عہد کیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے آخری حد تک جائیں گے، نہتے مسافروں پر حملہ غیر انسانی فعل ہے۔
محسن نقوی نے دہشت گردی کے خاتمے اور بلوچستان میں امن قائم رکھنے کے لیے حکومت کی پختہ عزم کا اعادہ کیا اور سیکیورٹی فورسز کو بھرپور تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بلوچستان میں ملک دشمنوں کی جانب سے بدامنی پھیلانے کے سلسلے میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور جانے والی ٹرین (جعفر ایکسپریس) پر حملہ کر کے مسافروں کو یرغمال بنالیا گیا تھا تاہم سیکیورٹی فورسز نے بزدل دشمن سے155 مسافروں کو رہا کروالیا جبکہ آپریشن میں 27 دہشت گردوں کو جہنم واصل اور متعدد کو زخمی کر دیا تھا۔
بلوچستان میں دہشت گردی کا یہ افسوس ناک واقعہ مچھ میں گڈا لار اور پیرو کنری کے درمیانی علاقے میں پیش آیا تھا، جہاں کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور بھی زخمی ہوگیا تھا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ بولان کے پاس ڈھاڈر کے مقام پر دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے معصوم شہریوں کو ٹارگٹ کیا تھا، دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس کو ٹنل میں روک کر مسافروں کو یرغمال بنایا تھا۔
انتہائی دشوار گزار اور سڑک سے دور ہونے کے باوجود سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا تھا، یرغمالیوں میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ دہشت گرد بیرون ملک اپنے سہولت کاروں سے بھی رابطے میں تھے، دہشت گردوں کے خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رکھا گیا۔