
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) پر پابندی کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروادی۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد جمع کروادی گئی، قرارداد مسلم لیگ (ن) کی ایم پی اے عظمیٰ کار دار نے پیش کی۔
قرارداد کے متن لکھا گیا ہے کہ یہ ایوان مخصوص سیاسی پارٹی کی ملک میں افراتفری پھیلانے کی مذموم کوشش کی مذمت کرتا ہے، تحریک انصاف نے پرتشدد احتجاج سے ملک بھر میں توڑپھوڑ اورجلاؤ گھیراؤکیا، پی ٹی آئی نے پولیس اہلکاروں کو شدید زخمی کیا، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے دوبار وفاق پر لشکر کشی کی، وفاق پر چڑھائی میں سرکاری مشینری استعمال میں لائی گئی۔
متن میں کہا گیا کہ اس انتشار پسند ٹولے نے رینجر کے جوان شہید کیے اور 2 پولیس کانسٹیبل کو بھی ہلاک کردیا، پی ٹی آئی نے پھر ایک دفعہ 9 مئی والے حالات پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی، ایک دفعہ پھر عوام کو ورغلا کر اداروں کے خلاف کھڑا کیا اور وفاق پر حملے کے لیے اکسایا، ان شرپسندوں کی وجہ سے جی ڈی پی کو 140 بلین ارب کا خمیازہ بھگتا پڑا۔
پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی پر پابندی کی قرارداد جمع
قرار داد کے متن میں مزید کہا گیا کہ اسٹاک ایکسچینج اس کریش کی وجہ سے 400 پوائنٹ گر گئی، بیلاروس کا وفد ہو، شنگھائی کانفرنس ہو، سی پیک ٹو ہو پی ٹی آئی نے ہر موقع پر پاکستان کو بدنام کرنے کی، پاکستان اب مزید اس شر انگیزی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت تحریک انصاف پر فوراً پابندی لگائے تاکہ ملک کومزید نقصان سےبچایا جاسکے۔
پی ٹی آئی ایم پی اے شہباز احمد نے پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع کرادی
دوسری جانب پاکستان تحریک اںصاف (پی ٹی آئی) کے ایم پی اے شہباز احمد نے پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع کروادی۔
{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
قرارداد میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی دھرنے کی کال پر پنجاب میں دفع 144 نافذ کردی گئی، پنجاب کو دوسرے صوبوں سے منقطع کر دیا گیا، صوبے کے تمام داخلی و خارجی راستے بند کر دیے گئے۔
قرارد داد میں مزید کہا گیا کہ ایمبولینسز کو گزرنے کا بھی راستہ نہیں دیا گیا، راستوں کی بندش کےباعث بہت سی اموات ہوئی، بہت سی بچیوں کی رخصتی نہ ہوسکی، ہم حکومت کے اس ظلم کے مذمت کرتے ہیں۔