
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر عرفان صدیقی نے سابق وزیر دفاع پرویز خٹک کی کابینہ میں شمولیت کے سوال پر کہا کہ کچھ معاملات میں سیاسی سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں، مولانا فضل الرحمان مار دھاڑ والی جماعت کے ساتھ نہیں جائیں گے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنی سیاست کیلئے بھی حکمت عملی بنانا پڑتی ہے، اس طرح کا معاملہ کوئی تاریخ میں پہلی بار نہیں ہوا ہے، ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے کہ غیرقانونی افغانوں کے انخلا کی کوئی نئی ڈیڈ لائن آئے گی یا نہیں؟
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان مار دھاڑ کی سیاست نہیں کرتے ہیں، وہ 9 مئی کی سیاست نہیں کرتے، مولانا فضل الرحمان کبھی بھی ماردھاڑ والی جماعت کے ساتھ نہیں جائیں گے۔
لیگی رہنما نے کہا کہ میں نے پارلیمان میں کہا کہ اسپیکر کی بات کی تائید کرتے ہیں، اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے تو انہیں پیش کیا جانا چاہیے، معاملہ اب استحقاق کمیٹی دیکھے گی۔
عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ کوئی دلیل نہیں کہ یہ لوگ کل کیا کرتے رہے، مجھے آدھی رات کو دھکے دیتے ہوئے لے جایا گیا، میری بیوی اور بیٹی کو بھی دھکے لگے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے، غیرقانونی افغانوں کے انخلا کا معاملہ مشکل ہے، دہشت گردوں کو تو زبردستی دھکیلا جاسکتا ہے لیکن انہیں کیسے دھکیلیں؟