جوڈیشل کمیشن کی تشکیل: 9 مئی کو ہلاک کسی شہری کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ ہی دکھا دیں، جسٹس جمال مندوخیل


سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے سانحہ 9 مئی واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے سے متعلق کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مزید دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دے دے۔
جسٹس امین الدین خان سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی آئینی بینچ نے سانحہ 9 مئی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے معاملے پر عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل ایڈووکیٹ حامد خان نے 9 مئی واقعے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق دلائل دیے۔
جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ آپ کی اس درخواست میں استدعا کیا ہے؟ جس پر وکیل حامد خان نے کہا کہ 9 مئی کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے، 9 مئی کے ملزمان کو کس انداز سے پراسیکیوٹ کیا جا رہا ہے، چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے دو سینیئر ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی بات کی ہے اور دوسری استدعا سویلین کا ملٹری ٹرائل نہ کیا جائے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ سویلین کے ملٹری ٹرائل سے متعلق استدعا تو آپ کی غیر مؤثر ہو چکی ہے، وہ تو الگ سے کیس چل رہا ہے۔ کیا 184 کی شق 3 میں ہم جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا معاملہ دیکھ سکتے ہیں۔
9 مئی واقعات اور انتخابی دھاندلی کی تحقیقات، عمران خان کی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہا کہ 9 مئی ایک قومی واقعہ ہے لیکن اس کی جوڈیشل انکوائری نہیں ہوئی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے اسفتسار کیا کہ آپ نے ملٹری کورٹس میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق کیس میں کہیں جوڈیشل کمشن کی استدعا کی ہے؟ جس پر حامد خان نے جواب دیا کہ نہیں اس کیس میں ہم نے جوڈیشل کمشن کی تشکیل سے متعلق کوئی استدعا نہیں کی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے حامد خان سے دریافت کیا کہ کس قانون کے تحت جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، آپ نے اپنی درخواست میں لکھا ہے کہ 9 مئی واقعے میں درجنوں شہری جاں بحق ہوئے، کیا آپ نے 9 مئی کو جاں بحق ہونے والے کسی شہری کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ لگایا ہے؟ کوئی ایک سرٹیفکیٹ تو ہمیں دکھا دیتے۔
جسٹس امین الدین خان نے سوال اٹھایا کہ شہری ہلاکتوں کی کہیں کوئی پرائیویٹ شکایت درج ہوئی؟ کوئی ایک آدھ ایف آئی آر کرائی ہو وہی دکھا دیں۔

{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>

حامد خان نے موقف اختیار کیا کہ مجوزہ جوڈیشل کمیشن انکوائری کرے گا تو اموات کا پتا چلے گا، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ایک سرٹیفکیٹ یا ایف آئی آر کی کاپی تو درخواست کے ساتھ لگائی جاسکتی تھی۔
بعدازاں عدالت نے تحریک انصاف کو مزید دستاویزات جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سانحہ 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے دائر درخواست پر سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔
10،9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیس: پنجاب حکومت نے عدالت سے وقت مانگ لیا
سپریم کورٹ میں 9 اور 10 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق کیس میں پنجاب حکومت نے رپورٹ جمع کروانے کے لیے عدالت سے وقت مانگ لیا۔
سپریم کورٹ میں 9 اور 10 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے عالیہ حمزہ اور شہریار آفریدی و دیگر کی ضمانت منسوخی کی اپیلوں پر سماعت کی۔
اس موقع پر پراسیکیوٹر جزل پنجاب عدالت میں پیش ہوئے۔ پنجاب حکومت نے رپورٹ جمع کروانے کیلئے عدالت سے وقت مانگ لیا۔
پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ رپورٹس کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔ بعدازاں عدالت نے کیس سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ 9 اور 10 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کی اپیلیں پنجاب حکومت کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles