صحافی مطیع اللہ جان کو اٹھا لیا گیا، مارگلہ پولیس اسٹیشن میں موجودگی سامنے آگئی


سینیئر صحافی اور معروف اینکر پرسن حامد میر نے دعوی کیا ہے کہ سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
حامد میر نے جمعرات کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دعوی کیا کہ مطیع اللہ جان اور ایک اور صحافی ثاقب بشیر کو 26 نومبر کی رات کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ثاقب بشیر کو بعد میں رہا کر دیا گیا لیکن مطیع اللہ جان اب تک لاپتہ ہیں۔
حامد میر کے مطابق ثاقب بشیر اس حوالے سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر رہے ہیں۔
صحافی مطیع اللہ جان ازخود نوٹس کیس، پولیس رپورٹ پر عدم اطمینان
ایک اور صحافی روحان احمد نے بتایا کہ مطیع اللہ جان کو بدھ کی شب پنز اسپتال کے باہر سے اغوا کیا گیا۔
اعزاز سید اور اسلام اباد کے کئی دیگر صحافیوں نے مطیع اللہ جان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سینئر صحافی مطیع اللہ جان اغواء
یاد رہے کہ مطیع اللہ جان نے اسلام اباد میں رینجرز اہلکاروں کے گاڑی سے کچل لے جانے پر ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شائع کی تھی جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ رینجرز اہلکار اپنی ہی گاڑی سے کچلے گئے تاہم بعد ازاں چند رینجرز اہلکاروں نے اپنے بیانات میں بتایا تھا کہ مظاہرین کی طرف سے انے والی ایک تیز رفتار گاڑی ان کے ساتھیوں کے اوپر چڑھ دوڑی اور انہیں کچلتے ہوئے نکل گئی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles