آج نیوز کی ٹیم نے دریجی میں مصطفی عامرکی جلی ہوئی گاڑی ڈھونڈ نکالی، ملزمان وہاں کیسے پہنچے؟ انکشاف


ارمغان نے مصطفی کی لاش پھینکنے کے لیے دریجی کا انتخاب کیوں کیا؟ مصطفی عامر کو کیسے اور کن حالات میں قتل کیا گیا؟ آج نیوز کی ٹیم تقریباً 150کلومیٹرکا فاصلہ طے کرکے دریجی پہنچی۔ ارمغان نے دوران تفتیش انکشافات کردیئے۔
آج نیوز کی ٹیم نے دُریجی میں مصطفی کی جلی ہوئی گاڑی ڈھونڈ نکالی ڈیڑھ سو کلومیٹر دشوار گزار راستہ، ملزمان کا وہاں پہنچنا کس طرح ممکن ہوا؟ کسی نے راستے میں پوچھا تک نہیں؟ قاتل واپس کراچی کس طرح آئے؟
گیارہ جنوری کو قتل کے بعد مصطفی عامر کی مسخ شدہ لاش کو کہاں دفن کیا گیا؟ آج نیوز کی ٹیم مصطفی عامر کی قبر پر پہنچ گئی، قبرکشائی کل ہوگی۔
ملزم ارمغان نے دوران تفتیش بتایا کہ شیراز نے کہا لہولہان مصطفی کو ٹھکانے لگانا ہوگا، میں نے گوگل پر ہنٹنگ پلیس کوسرچ کیا، گوگل سرچ میں سب سے اوپر دریجی کا نام آیا۔
پولیس تفتیش کے دوران ارمغان نے مزید بتایا کہ گاڑی میں نیویگیشن آن کرکے میں اس مقام کی جانب چل پڑا،
ملزم ارمغان نے بتایا کہ کہ دریجی پہنچ کر گاڑی کی ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا، مصطفیٰ کو کہا کہ ڈگی اور شیشیے کھلے ہیں ہمت ہے تو بھاگ جا،مصطفیٰ نے حرکت کی کوشش کی لیکن مصطفیٰ گھٹنوں پرچوٹ کے باعث ہل نہیں پایا۔
ملزم کے مطابق ڈگی اور گاڑی کے شیشے کھولنے کے بعد اس پر پیٹرول چھڑکا، آگ لگنے کے فورا بعد مجھے شیراز نے وہاں سے چلنے کا کہا، میں اورشیراز حب سے پیدل نکلے اورمختلف گاڑیوں سے لفٹ لیکر کراچی پہنچے۔
پولیس تفتیش کے دوران ارمغان نے مزید بتایا کہ گاڑی میں نیویگیشن آن کرکے میں اس مقام کی جانب چل پڑا، پولیس کے مطابق واردات میں استعمال کی گئی گاڑی رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے دریجی جانے کے لیے حب کا عام راستہ استعمال نہیں کیا، ملزم کے بتائے گئے راستوں کا روٹ میپ بنایا ہے، لاش کو کراچی سے باہر ٹھکانے لگانے کا مقصد سی سی ٹی وی کیمروں سے بچنا تھا۔
واضح رہے کہ دریجی بلوچستان کا مقام کراچی سے135 کلومیٹرکےفاصلے پرہے، دریجی وہی مقام ہے جہاں ارمضان مصطفیٰ کوقتل کرنے کے لئے لے کر آیا اورارمغان نے اسی مقام پر مصطفیٰ کو گاڑی سمیت نذرآتش کردیا تھا۔
یاد رہے کہ کراچی سے ڈنگا موضع کے مقام تک 4 پولیس چوکیاں قائم ہیں، پہلی چوکی ہمدرد چوکی تھی، دوسری چوکی ساکران بلوچستان کی چوکی تھی، تیسری چوکی لارک چوکی تھی،چوتھی چوکی دریجی تھانے کی چوکی تھی۔
ان راستوں پرسناٹا ایسا ہے کہ دن میں بھی سفرکرنےسے جی گھبرائے ، لیکن رات میں یہاں سفرکرنا کسی خوف سےکم نہیں، راستے میں آنے والی کسی بھی چوکی کوئی چیکنگ نہیں ہوئی، کراچی اور بلوچستان میں تمام چوکیوں کی صورتحال ایک جیسی تھی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles