
لوئر کرم میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا، ڈپٹی کمشنر نے متاثرین کیلئے ٹل اور ہنگو میں ٹی ڈی پیز(عارضی بے گھر افراد کیلئے) کیمپ قائم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ٹل ڈگری کالج، ٹیکنیکل کالج، ریسکیو اور عدالت کی عمارت میں کیمپ قائم ہوں گے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق ٹی ڈی پیز کیمپ قائم کرنے کیلئے صوبائی ریلیف کو خط ارسال کردیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ دوران آپریشن آبادی کے تحفظ کیلئے کیمپ قائم کیے جارہے ہیں اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں ایک کمیٹی بھی قائم کردی گئی۔
کرم جانے والے امدادی اشیا کے قافلے پر نامعلوم افراد کا حملہ، 2 گاڑیاں نذر آتش، 3 سکیورٹی اہلکار زخمی
گذشتہ روز کرم کے علاقے بگن میں پارا چنار جانے والے گاڑیوں کے قافلے پر حملے میں 2 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 6 ڈرائیورز شہید اور 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں 6 حملہ آور ہلاک اور 10 زخمی ہوئے جبکہ 10 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
پولیس کے مطابق گزشتہ روز کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم افراد نے پارا چنار جانے والے گاڑیوں کے قافلے پر حملہ کیا، حملے میں 2 سیکیورٹی اہلکار اور 6 ڈرائیورز شہید جبکہ 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
کرم میں قافلے پر حملے کی تفصیلات، 2 سیکیورٹی اہلکار، 6 ڈرائیورز شہید ہوئے، 6 حملہ آور مارے گئے
ضلعی انتظامیہ کے مطابق جوابی کارروائی میں 6 حملہ آور مارے گئے جبکہ 10 زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری طرف لوئر کرم کے علاقے اڑوالی سے 4 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، مقتولین کو تشدد کے بعد فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق 4 ڈرائیورز کی لاشیں لوئرکرم سےصبح برآمد کی گئی ہیں، لاشوں کو لوئر کرم علی زئی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ضلع کرم: امن معاہدے کے تحت مورچے مسمار کئے جانے کا عمل مؤخر
{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>
ادھر گرینڈ جرگہ ممبر کے مطابق امن معاہدے کی بار بار خلاف ورزی ذمہ داروں کے سامنے رکھیں گے، بگن حملے سے امن کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔
جرگہ ممبران کے مطابق راستوں کی بندش اور حملے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق قیام امن کے لئے اقدامات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کرم کی صورتحال پر جاری گرینڈ جرگے میں فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کر دیے تھے جس کے تحت نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا اور بڑا اسلحہ حکومتی تحویل میں دیا جائےگا۔
معاہدے کے تحت فریقین کی جانب سے بنائےگئے مورچے ختم کیے جائیں گے اور قبائلی تصادم کو مذہبی رنگ نہیں دیا جائے گا۔