خصوصی عدالتوں میں سویلینز ٹرائل: آئین کے مطابق رولز معطل ہوتے ہیں رائٹس معطل نہیں ہوسکتے، جسٹس جمال مندوخیل


سپریم کورٹ میں خصوصی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل اور فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئین کے مطابق رولز معطل ہوتے ہیں رائتس معطل نہیں ہوسکتے۔
بدھ کو سپریم کورٹ کے ساتھ رکنی آئینی بینچ نے ایک بار پھر خصوصی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل اور فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔
سماعت شروع ہوئی تو وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل کا آغاز وہیں سے کیا جہاں سے منگل کو چھوڑا تھا۔
وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی بنیاد آرٹیکل 8(5) اور 8(3) ہے، دونوں ذیلی آرٹیکلز یکسر مختلف ہیں اور انہیں یکجا نہیں کیا جاسکتا۔
جس پر جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ کا یہ نکتہ کل سمجھ آچکا ہے، اب آگے چلیں اوربقیہ دلائل مکمل کریں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے بھی کہا کہ آپ جسٹس منیب کی ججمنٹ سے پیراگراف پڑھ رہے تھے وہیں سے شروع کریں۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 233 بنیادی حقوق کوتحفظ فراہم کرتا ہے۔

{try{this.style.height=this.contentWindow.document.body.scrollHeight+’px’;}catch{}}, 100)”
width=”100%” frameborder=”0″ scrolling=”no” style=”height:250px;position:relative”
src=”
sandbox=”allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms”>

جسٹس جمال مندوخیل بولے کہ آئین کے مطابق بھی رولزمعطل ہوتے ہیں ختم نہیں، آرٹیکل 5 کے مطابق بھی رائٹس معطل نہیں ہوسکتے۔
خواجہ حارث نے کہا کہ آرٹیکل 233 کے دو حصے ہیں ایک آرمڈ فورسز کا دوسرا سویلینز کا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles