کُرم میں معمولات زندگی 85 ویں روز بھی بحال نہ ہوسکی، آج فریقین کے درمیان معاہدہ طے پانے کا امکان


ضلع کرم میں امن و امان کی صورت حال معمول پر نہ آسکی۔ پاراچنار ٹل مین شاہراہ آج 85 ویں روز بھی ہر قسم آمد و رفت کیلئے بند ہے جبکہ اپر کرم کو سپلائی معطل ہے دوسری جانب ضلع میں قیام امن کیلئے آج فریقین کے درمیان معاہدہ طے پانے کا امکان ہے۔
کمشنر ہاؤس کوہاٹ میں گرینڈ جرگہ آج ہوگا۔ ذرائع کے مطابق معاہدے پر دستخط کرنے والے ایک فریق کے مشران کئی دن سے کوہاٹ میں موجود ہیں۔
دوسری جانب مزید دو دن کی مہلت مانگنے والے فریق کے مشران بھی آج کوہاٹ پہنچ جائیں گے۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ فریقین میں عمومی اتفاقِ رائے ہوچکا ہے۔
راستوں کی بندش کے باعث اشیائے خوردونوش کا فقدان ہے اور شہری پریشان ہیں۔ کرم پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا آج بارویں روز بھی جاری ہے۔ مقامی رجسٹرڈ تنظیم سول سوسائٹی کے مطابق علاج و سہولیات نہ ملنے کے باعث 128 بچوں سمیت 200 جاں بحق ہوگئے ہیں۔
موبائل نیٹ ورک بند ہونے کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔ شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ، ہوٹلز، ریسٹورنٹس، کاروباری مراکز سمیت بینک اے ٹی ایمز بھی بند ہیں۔ چھٹیوں پرآئے ہوئے ہزاروں اوور سیز افراد کے ویزے اور ٹکٹ ایکسپائر ہوگئے ہیں۔
شہر میں مقامی سبزی آلو 500 روپے کلو، پیاز 380 جبکہ درجہ دوم کے ٹماٹر 450 روپے کلو کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں۔ قیام امن کیلئے کمشنر کوہاٹ کے زیر نگرانی آج پھر ہو گا۔
قبائلی اضلاع میں آپریشن کی مخالفت پر خیبرپختونخوا حکومت اور اپوزیشن ایک ہوگئے
کرم پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا آج بارویں روز بھی جاری ہے۔ چار مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ مرکزی پیش امام پاراچنارکے مطابق مطالبات نہ ماننے تک دھرنا جاری رہے گا۔
دھرنا نہ صرف پاراچنار میں ہوگا بلکہ دیگر اضلاع میں بھی دھرنا جاری رہے گا۔ اگر ہم پر راستے بند ہے تو پھر سب پر راستے بند ہونگے،،جرگہ ذرائع کے مطابق 14 نکات پر مشتمل فیصلہ پر ایک فریق نے دستخط کر لیے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles