ہیکرز کی فوج شمالی کوریا کا خفیہ اور سب سے بہترین ہتھیار کیسے بنی؟

دنیا میں سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور اب ہیکرز صرف انفرادی طور پر کام کرنے والے جرائم پیشہ افراد تک محدود نہیں رہے بلکہ بعض ممالک انہیں باقاعدہ حکومتی سرپرستی میں تیار کر رہے ہیں۔ شمالی کوریا بھی ایسے ہی ممالک میں شامل ہے، جہاں کم عمری سے ذہین بچوں کا انتخاب کرکے انہیں سائبر حملوں کی تربیت دی جاتی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے ہیکرز کی ایک ایسی تربیت یافتہ ٹیم تیار کر رکھی ہے جسے ملک کے رہنما کِم جونگ اُن کے اہم خفیہ ہتھیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسی نیٹ ورک پر گزشتہ ماہ دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی حملوں میں سے ایک، بائنانس ہیک کرنے کا الزام ہے، جس میں تقریباً 6.3 ارب ڈالر مالیت کے کرپٹو اثاثے چوری کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا اپنے کامیاب ہیکرز کو بھاری مالی انعامات، دارالحکومت پیانگ یانگ میں کشادہ اپارٹمنٹس اور دیگر مراعات فراہم کرتا ہے، تاکہ وہ ملک کے لیے مزید بڑے سائبر حملے کرسکیں۔

تاہم شمالی کوریا نے بائنانس ہیک میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ دوسری جانب امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور کرپٹو ایکسچینج بائنانس نے اس حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا کو قرار دیا ہے۔ بلاک چین کی تحقیقات کرنے والی کمپنیوں نے بھی اس حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ سے جوڑا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا میں ہیکرز کی تیاری کا یہ پروگرام ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری ہے، جس کے تحت ہر سال مڈل اسکول کے تقریباً 150 سے 200 ذہین طلبہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

ان بچوں کی عمریں عموماً 11 سے 12 سال ہوتی ہیں اور انہیں ابتدائی مرحلے میں کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ بعد ازاں 17 سال کی عمر میں بہترین کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو ملک کی ممتاز جامعات میں بھیجا جاتا ہے، جہاں مزید جانچ پڑتال کے بعد چند منتخب افراد کو فوج کے سائبر یونٹ میں شامل کرلیا جاتا ہے۔

شمالی کوریا سے فرار ہونے والے سابق ٹرینر کم ہونگ کوانگ کے مطابق ان ہیکرز کو صرف کمپیوٹر پروگرامنگ ہی نہیں بلکہ کرپٹو کرنسی کے نظام، غیر ملکی الیکٹرانک آلات کی تکنیکی ساخت سمجھنے اور ان کی سکیورٹی میں خامیاں تلاش کرنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں اعلیٰ ریاضی اور غیر ملکی زبانیں بھی سکھائی جاتی ہیں۔

کم ہونگ کوانگ کے مطابق شمالی کوریا میں بچوں کا انتخاب اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ وہ کتنے ذہین ہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ وہ مستقبل میں خود ہیکر بننا چاہتے ہیں یا نہیں۔

کامیاب ہیکرز کے لیے بھاری انعامات اور مراعات

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا میں سائبر حملوں میں کامیاب ہونے والے ہیکرز کو غیر معمولی مراعات دی جاتی ہیں۔ ان میں پیانگ یانگ میں کشادہ رہائش، غیر ملکی کرنسی میں بھاری انعامات اور بعض دوست ممالک کا سفر شامل ہے، جہاں انہیں نسبتاً زیادہ آزادی کے ساتھ انٹرنیٹ استعمال کرنے کا موقع ملتا ہے۔

سابق ہیکر کم ہونگ کوانگ کے مطابق بعض کامیاب کارروائیوں سے حاصل ہونے والی رقم کا 30 فیصد تک حصہ فوج کے سائبر یونٹ کو دیا جاسکتا ہے، جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد کو دارالحکومت میں فلیٹ بھی مل سکتا ہے۔ ان کے والدین کو بھی اس رہائش میں ساتھ رکھنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔

کوریا یونیورسٹی کے شعبہ سائبر سکیورٹی کے پروفیسر ایمریٹس لِم جونگِن کے مطابق بعض ہیکرز کو تقریباً 132 مربع میٹر تک کے اپارٹمنٹس دیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے علاوہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد کو حکمران جماعت کی رکنیت اور بااثر خاندانوں میں شادی کے مواقع بھی مل سکتے ہیں۔

تاہم یہ مراعات شمالی کوریا کے تمام ٹیکنالوجی کارکنوں کو حاصل نہیں ہوتیں بلکہ ایک محدود اور منتخب گروہ تک ہی رہتی ہیں۔ جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس کے 2024 کے تخمینے کے مطابق شمالی کوریا کے سائبر وارفیئر آپریشنز میں تقریباً 8 ہزار 400 افراد کام کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا نے 1998 میں اپنا سائبر یونٹ قائم کیا تھا، تاہم کم جونگ اُن کے اقتدار میں آنے کے بعد اس پروگرام کو مزید اہمیت دی گئی۔

2013 میں کم جونگ اُن نے سائبر جنگ کو جوہری ہتھیاروں اور میزائلوں کے ساتھ ملک کی دفاعی اور حملہ آور صلاحیت کا ایک اہم ہتھیار قرار دیا تھا۔

ابتدائی برسوں میں شمالی کوریا سے وابستہ ہیکنگ گروپس غیر قانونی آن لائن جوئے کی ویب سائٹس چلاتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ان کی کارروائیاں زیادہ پیچیدہ اور بڑے مالی اہداف پر مرکوز ہوتی گئیں۔

ان گروپس میں ’لازارس گروپ‘ بھی شامل ہے، جسے اے پی ٹی 38 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ امریکا نے 2022 میں اس گروپ پر رونن بلاک چین نیٹ ورک سے کروڑوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چرانے کا الزام عائد کیا تھا۔ ایف بی آئی کے مطابق ٹریڈر ٹریٹر کا تعلق بھی لازارس گروپ سے ہے۔

آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی ہیکرز کا اہم ہتھیار

رائٹرز کی رپورٹ میں شمالی کوریا کے آئی ٹی کارکنوں کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے وسیع استعمال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

یہ کارکن بیرون ملک کمپنیوں میں ریموٹ ملازمتیں حاصل کرکے شمالی کوریا کے لیے رقم کماتے ہیں۔ بعض اداروں اور افراد کے مطابق ان کارکنوں کا کام کرنے کا انداز انتہائی منظم ہوتا ہے اور وہ جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔

یوٹیوبر ڈی ویار کے مطابق شمالی کوریا کے آئی ٹی کارکن چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ کوڈ اور کرسر جیسے ٹولز استعمال کرتے ہیں۔ ان کی مدد سے وہ کمپیوٹر کوڈ لکھنے، ملازمت کے لیے ریزیومے تیار کرنے اور دستاویزات میں ردوبدل کرنے جیسے کام انجام دیتے ہیں۔

بائنانس کے مطابق حالیہ سائبر حملے میں ہیکرز نے پہلے جعلی ملازمت کے انٹرویو کے ذریعے کمپنی کے عملے کے کمپیوٹرز تک رسائی حاصل کی۔ اس کے علاوہ ایک اشتہار میں چھپے سافٹ ویئر کو بھی استعمال کیا گیا، جس کے بعد کمپنی کے اندرونی اے آئی کے ٹول کی مدد سے نظام پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے 11 رکن ممالک پر مشتمل پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ایک ٹیم نے 2025 میں اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ٹریڈر ٹریٹر گروپ نے چیٹ جی پی ٹی اور ڈیپ سیک کے اکاؤنٹس بھی حاصل کیے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے ہیکرز اور آئی ٹی کارکنوں کی زندگی اتنی آسان نہیں جتنی ان کی مراعات سے دکھائی دیتی ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے پی ایس کور کی گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے لیے انٹرویو دینے والے سابق آئی ٹی کارکنوں کے مطابق انہیں تنگ جگہوں پر رہنا پڑتا ہے، اکثر روزانہ 10 گھنٹے سے زیادہ کام کرنا ہوتا ہے اور ان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جاتی ہے۔

ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، با دا کے مطابق ان کارکنوں پر ہر ماہ غیر ملکی کرنسی میں مخصوص رقم کمانے کا دباؤ ہوتا ہے۔ مقررہ ہدف پورا نہ ہونے کی صورت میں انہیں تضحیک اور دیگر سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ذہنی دباؤ کے باعث بعض کارکنوں کو صحت کے مسائل بھی لاحق ہوجاتے ہیں۔

بڑے مالی ادارے اب ہیکرز کا ہدف ہیں

سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کو حکومتی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے اس کے ہیکنگ گروپس کے خلاف کارروائی کرنا مشکل ہوتا ہے۔ انہیں مسلسل حملوں کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع ملتا ہے، جس سے وہ اپنی حکمت عملی مزید بہتر بناتے رہتے ہیں۔

بلاک چین تجزیاتی کمپنی چین اینالسس سے وابستہ ماہر الیک زیبرک کے مطابق شمالی کوریا کے ہیکرز اب نسبتاً بڑے مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں، کیونکہ ان اداروں کے پاس بڑی مقدار میں رقم موجود ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بائنانس جیسے بڑے پلیٹ فارم پر حملے میں مبینہ کامیابی شمالی کوریا کو مستقبل میں مزید بڑے سائبر حملوں کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہے، کیونکہ ایسے حملوں سے حاصل ہونے والی رقم ان کی محنت اور خطرات کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔

یوں شمالی کوریا کا سائبر پروگرام صرف تکنیکی تربیت تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا منظم نظام بن چکا ہے جس میں کم عمری سے ذہین افراد کا انتخاب، فوجی تربیت، مالی مراعات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles