
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد اپنی انتظامیہ میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے سخت گیر پالیسیوں کے حامی اور دیرینہ مشیر اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا نیا چیف آف اسٹاف مقرر کردیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسٹیفن ملر سوسی وائلز کی جگہ یہ ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور ان کی تقرری کا اطلاق پیر سے ہوگا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو چکی ہے اور اب ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہوگی۔
اس صورتحال میں صدر ٹرمپ کو نہ صرف ڈیموکریٹس کی مخالفت بلکہ اپنی حکومت کے خلاف ممکنہ تحقیقات کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ نئے چیف آف اسٹاف کی ذمہ داریوں میں وائٹ ہاؤس کے عملے کو منظم کرنا، صدر کے روزمرہ شیڈول کی نگرانی اور حکومتی اداروں کے ساتھ رابطہ رکھنا شامل ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں اسٹیفن ملر کو اپنا قابل اعتماد مشیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے سب سے زیادہ قابل بھروسہ ساتھیوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے سبکدوش ہونے والی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے شاندار کام کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق اسٹیفن ملر کی تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کا ارادہ نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنے وفادار ساتھیوں کو مزید اہم ذمہ داریاں دے رہے ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ اپنا راستہ تبدیل نہیں کر رہے۔
اسٹیفن ملر کو امریکا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت کارروائیوں کا اہم منصوبہ ساز سمجھا جاتا ہے۔ 41 سالہ ملر ٹرمپ کے پہلے اور دوسرے صدارتی دور میں ان کے قریبی ساتھیوں میں شامل رہے ہیں۔ 2025 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد وہ ڈپٹی چیف آف اسٹاف کے طور پر کام کر رہے تھے، تاہم ملکی پالیسیوں میں ان کا اثر و رسوخ ان کے عہدے سے کہیں زیادہ رہا ہے۔
ملر کی نگرانی میں امریکا میں تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی گئی اور روزانہ 3 ہزار افراد کی گرفتاریوں کا ہدف مقرر کیا گیا۔ اس مہم کے دوران امریکی امیگریشن حکام نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں اور ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور جو کئی دہائیوں سے امریکا میں مقیم تھے۔
تاہم تارکین وطن کے خلاف ان کارروائیوں کو امریکی عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں۔ رائٹرز اور اِپسوس کے ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 36 فیصد افراد نے ان کارروائیوں کی حمایت کی، جبکہ 54 فیصد نے مخالفت کی۔
امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے نگرانی اور حکومتی اصلاحات میں ڈیموکریٹس کے سینیئر رکن رابرٹ گارشیا نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اسٹیفن ملر کی امیگریشن پالیسیوں کی تحقیقات کرے گی۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیفن ملر کو اپنے دفاع کے لیے وکیل کرنا چاہیے۔
اسٹیفن ملر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وفاقی سرکاری اداروں میں تبدیلیوں کے بھی اہم کردار رہے ہیں۔ ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں 2025 کے دوران ہزاروں سرکاری ملازمین کو ملازمتوں سے فارغ کیا گیا۔ اس کے علاوہ جامعات، تنوع کے فروغ کے پروگراموں اور دیگر اداروں کے خلاف انتظامیہ کی کارروائیوں میں بھی ان کا اہم کردار رہا۔
خارجہ پالیسی کے معاملے پر بھی ملر صدر ٹرمپ کے سخت مؤقف کے حامی رہے ہیں۔ انہوں نے بحیرہ کیریبین اور بحرالکاہل میں منشیات کی مبینہ ترسیل میں ملوث کشتیوں کے خلاف امریکی فوجی حملوں کی حمایت کی، جن پر قانونی سوالات بھی اٹھائے گئے۔
اسٹیفن ملر نے ایران میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کی بھی حمایت کی تھی۔ وہ ایران کو کمزور کرنے اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت محدود کرنے کے لیے بحری ناکہ بندی اور اقتصادی پابندیوں کے حامی رہے ہیں۔ تاہم حالیہ انتخابات میں ایران جنگ کے معاشی اثرات کے باعث ریپبلکن پارٹی کو پہنچنے والے نقصان کے بعد یہ واضح نہیں کہ وہ اب بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے متوقع نئے اسپیکر حکیم جیفریز نے اسٹیفن ملر کی تقرری پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ایک غیر ذمہ دار انتہا پسند قرار دیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی ملر کی ترقی کا خیرمقدم کیا اور سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں لکھا کہ محب وطن اب کنٹرول میں ہیں۔ پیٹ ہیگسیتھ کو ایران جنگ کے معاملے پر ڈیموکریٹس کی جانب سے مواخذے کی کارروائی کا مطالبہ بھی درپیش ہے۔