
وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات کمیٹی کی چیئرمین شپ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کے مطابق انتخابی اصلاحات کمیٹی میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کو برابر کی نمائندگی ملے گی، ان کے 2،2 سینیٹرز ہوں گے جب کہ عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کا ایک، ایک رکن کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پارلیمانی کمیٹی میں پیپلزپارٹی کی نمائندگی حتمی ہوگی، قومی اسمبلی سے 5 اور سینیٹ سے 2 ارکان شامل ہوں گے۔
چیئرمین شپ کے لیے فاروق ایچ نائیک مضبوط امیدوار ہیں، انتخابی اصلاحات کمیٹی کے لیے سینیٹ ارکان کے ناموں کا حتمی فیصلہ قائد ایوان و نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار کریں گے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اپوزیشن، حکومتی اتحادی جماعتوں اور متعلقہ پارلیمانی قیادت سے مشاورت کریں گے، جس کے بعد کمیٹی کے لیے ناموں کو حتمی شکل دی جائے گی۔
انتخابی اصلاحات کمیٹی کے لیے پیپلزپارٹی کے 7 نام فائنل
دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اپنے ارکان کے نام فائنل کرلیے ہیں، قومی اسمبلی سے 5 جب کہ سینیٹ سے 2 ارکان کمیٹی میں پارٹی کی جانب سے شامل ہوں گے۔
پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر کے مطابق قومی اسمبلی سے شازیہ مری، عبدالقادر پٹیل، صادق میمن، نوابزادہ افتخار اور علی قاسم گیلانی کو انتخابی اصلاحات کمیٹی کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سینیٹ سے فاروق ایچ نائیک اور سینیٹر ضمیر گھمرو کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔
سید نوید قمر کے مطابق قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کی نشستوں کے تناسب سے پیپلزپارٹی کے 5 ارکان انتخابی اصلاحات کمیٹی کا حصہ بنیں گے جب کہ سینیٹ سے 2 ارکان کی نمائندگی ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ سینیٹ سے سینیٹر شہادت اعوان کا پہلے دیا گیا تیسرا نام واپس لے لیا گیا ہے۔ سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے لیے سیاسی جماعتوں سے نام طلب کیے تھے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما کے مطابق حکومت نے پارلیمانی کمیٹی کی چیئرمین شپ پیپلزپارٹی کو دینے کا وعدہ کیا ہے جب کہ پارٹی کے سینئر رہنما فاروق ایچ نائیک اس عہدے کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔ سید نوید قمر نے کہا کہ کمیٹی کے چیئرمین کے نام کا حتمی فیصلہ پارٹی خود کرے گی۔