
امریکی میڈیا اور انتخابی تجزیاتی اداروں نے مڈٹرم الیکشن میں ڈیموکریٹ کی پہلی کامیابی کی پیش گوئی کردی ہے، جس کے مطابق ریاست ورجینیا سے ڈیموکریٹ امیدوار مارک وارنر چوتھی مرتبہ سینیٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
امریکی چینل سی این این کے انتخابی تجزیاتی ادارے ’ڈسیژن ڈیسک‘ اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے ڈیموکریٹ امیدوار مارک وارنر کی ریاست ورجینیا سے چوتھی مرتبہ سینیٹ کی نشست جیتنے کی پیش گوئی کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارک وارنر نے ری پبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دی ہے جو امریکی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل اور افغانستان جنگ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
مارک وارنر سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے نائب چیئرمین کی حیثیت سے ان آٹھ امریکی قانون سازوں میں شامل تھے جنہیں ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔
مارک وارنر اس سے قبل ورجینیا کے گورنر بھی رہ چکے ہیں اور 2008 میں پہلی مرتبہ امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
منگل کے روز امریکا کی تمام ریاستوں میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں جب کہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے بھی ووٹنگ جاری ہے۔ اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں نئے گورنرز کے لیے بھی پولنگ کا عمل جاری ہے۔
امریکا میں کانگریس دو رکنی ایوان، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان پر مشتمل ہوتا ہے۔ حالیہ انتخابات سے قبل حکومتی جماعت، ری پبلکنز کو دونوں ایوان میں معمولی اکثریت حاصل تھی۔
امریکی سینیٹ میں اکثریت کیلئے کسی بھی جماعت کو 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں، جہاں ری 53 ری پبلکنز، 45 ڈیموکریٹس اور 2 آزاد سینیٹرز موجود تھے۔
حالیہ الیکشن میں سینیٹ کی 35 نشستوں پر سخت مقابلہ متوقع ہے، خاص طور پر ان سیٹوں پر جہاں روایتی طور پر ری پبلکنز کی پوزیشن مضبوط رہی ہے۔ ان ریاستوں میں کنساس، ٹیکساس، آئیووا، اوہائیو اور الاسکا شامل ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار ان تمام ریاستوں میں یا تو معمولی برتری رکھتے ہیں یا ری پبلکن امیدواروں کے مقابلے میں سخت مقابلے کی پوزیشن میں ہیں۔
امریکی انتخابات کا تجزیہ کرنے والے ادارے ’ڈسیژن ڈیسک ایچ کیو‘ نے مڈٹرم انتخابات میں سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی 52 اور ری پبلکنز کی 48 نشستوں کی پیش گوئی کی ہے۔
دوسری جانب ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کیلئے کسی بھی جماعت کو 218 نشستیں درکار ہیں، انتخابات سے قبل ری پبلکنز کے پاس پوری 218 نشستیں تھیں جب کہ ڈیموکریٹس کے پاس 212 نشستیں تھیں۔
انتخابی پیش گوئیوں میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریتی پارٹی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ’ڈسیژن ڈیسک ایچ کیو‘ نے ڈیموکریٹس کو 241 جب کہ ری پبلکنز کو 194 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔