مڈٹرم الیکشن کا پہلا نتیجہ؛ ڈیموکریٹ مارک وارنر ورجینیا سے سینیٹر منتخب: امریکی میڈیا

امریکا کی دو ریاستوں، انڈیانا اور کینٹکی کے بعض علاقوں میں وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشن) کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا ہے جب کہ دیگر ریاستوں میں پولنگ جاری ہے. حالیہ الیکشن کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے لیے عوامی ریفرنڈم قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے جب کہ سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

امریکی چینل سی این این کے انتخابی تجزیاتی ادارے ’ڈسیژن ڈیسک‘ نے ڈیموکریٹ امیدوار مارک وارنر کی ریاست ورجینیا سے چوتھی مرتبہ سینیٹ کی نشست جیتنے کی پیش گوئی کردی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مارک وارنر نے ری پبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دی ہے۔

مارک وارنر سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے نائب چیئرمین کی حیثیت سے ان آٹھ امریکی قانون سازوں میں شامل تھے جنہیں ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔

منگل کے روز امریکا کی تمام ریاستوں میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں جب کہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے بھی ووٹنگ جاری ہے۔ اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں نئے گورنرز کے لیے بھی پولنگ کا عمل جاری ہے۔

امریکا میں کانگریس دو رکنی ایوان، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان پر مشتمل ہوتا ہے۔ حالیہ انتخابات سے قبل حکومتی جماعت، ری پبلکنز کو دونوں ایوان میں معمولی اکثریت حاصل تھی۔

امریکی سینیٹ میں اکثریت کیلئے کسی بھی جماعت کو 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں، جہاں ری 53 ری پبلکنز، 45 ڈیموکریٹس اور 2 آزاد سینیٹرز موجود تھے۔

حالیہ الیکشن میں سینیٹ کی 35 نشستوں پر سخت مقابلہ متوقع ہے، خاص طور پر ان سیٹوں پر جہاں روایتی طور پر ری پبلکنز کی پوزیشن مضبوط رہی ہے۔ ان ریاستوں میں کنساس، ٹیکساس، آئیووا، اوہائیو اور الاسکا شامل ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار ان تمام ریاستوں میں یا تو معمولی برتری رکھتے ہیں یا ری پبلکن امیدواروں کے مقابلے میں سخت مقابلے کی پوزیشن میں ہیں۔

امریکی انتخابات کا تجزیہ کرنے والے ادارے ’ڈسیژن ڈیسک ایچ کیو‘ نے مڈٹرم انتخابات میں سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی 52 اور ری پبلکنز کی 48 نشستوں کی پیش گوئی کی ہے۔

دوسری جانب ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کیلئے کسی بھی جماعت کو 218 نشستیں درکار ہیں، انتخابات سے قبل ری پبلکنز کے پاس پوری 218 نشستیں تھیں جب کہ ڈیموکریٹس کے پاس 212 نشستیں تھیں۔

انتخابی پیش گوئیوں میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریتی پارٹی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ ’ڈسیژن ڈیسک ایچ کیو‘ نے ڈیموکریٹس کو 241 جب کہ ری پبلکنز کو 194 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

امریکا کی مختلف ریاستوں کے مختلف ٹائم زونز کے باعث ووٹنگ کا آغاز مشرقی ریاست ورمونٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے ہوا، اس کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد نیو ہیمپشائر، نیو جرسی، نیویارک اور ورجینیا اور پھر دیگر ریاستوں میں بھی پولنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو مقامی اوقات اور قوانین کے مطابق دیگر ریاستوں تک پھیلتا چلا گیا۔

اسی بنیاد پر مختلف ریاستوں میں پولنگ مختلف اوقات میں ختم ہوگی۔ سب سے پہلے انڈیانا اور کینٹٹکی میں پاکستانی وقت کے مطابق صبح 4 تک پولنگ جاری رہے گی، جس کے بعد ابتدائی نتائج تیزی سے سامنے آنے کی توقع ہے۔

تاریخی طور پر وسط مدتی انتخابات میں برسرِ اقتدار صدر کی جماعت کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں اب تک صرف دو مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ حکومتی جماعت نے کانگریس میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی یا اسے بہتر بنایا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں اس وقت صدر ٹرمپ کی مقبولیت بھی کم ترین سطح پر آچکی ہے۔ ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر امریکی ووٹرز کی ناراضی نے ان کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے۔

حالیہ انتخابات کے نتائج نہ صرف امریکی کانگریس میں سیاسی طاقت کا توازن تبدیل کر سکتے ہیں بلکہ وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان آئندہ دو برس کے تعلقات کی سمت بھی متعین کریں گے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کے لیے قانون سازی، وفاقی بجٹ کی منظوری اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس اگر ری پبلکنز دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں کامیاب رہے تو صدر ٹرمپ کو اپنے حکومتی ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے کانگریس کی حمایت حاصل رہے گی۔

حالیہ الیکشن میں ماضی کے مقابلے میں کئی نئے ریکارڈز بھی سامنے آئے ہیں جس میں سرفہرست عوامی شرکت ہے۔

منگل کو پولنگ کے دن سے قبل ہی امریکا میں قبل از وقت ووٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم ہو چکا ہے اور 5 کروڑ 87 لاکھ سے زائد شہری اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔

ان میں سے تقریباً 3 کروڑ 19 لاکھ افراد نے پولنگ مراکز پر جا کر ووٹ ڈالا، جبکہ 2 کروڑ 68 لاکھ شہریوں نے ڈاک کے ذریعے اپنے بیلٹ پیپرز ارسال کیے۔

امریکی ووٹرز براہِ راست بیلٹ باکس، ای میل (میل اِن بیلٹ) یا قبل از وقت ووٹنگ کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں، تاہم صدارتی انتخابات کے مقابلے میں وسط مدتی انتخابات کے دوران ووٹرز کی شرکت عموماً کم رہتی ہے۔

سنہ 2018 کے وسط مدتی انتخابات میں تقریباً 50 فیصد اہل ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا، جو ایک صدی سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ شرح تھی، جبکہ 2022 کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 46 فیصد سے کچھ زیادہ رہا تھا۔

حالیہ مڈٹرم الیکشن میں ارلی ووٹرز (قبل از وقت ووٹ ڈالنے والوں) کی تعداد 2022 کے مقابلے میں تقریباً ایک کروڑ 27 لاکھ زیادہ ہے، جسے انتخابی عمل میں عوام کی نمایاں دلچسپی کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

حالیہ الیکشن اس حوالے سے بھی منفرد ہے کہ اس بار انتخابی مہم پر سیاسی اشتہارات کی مد میں 11 ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ کی گئی۔ صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ایلون مسک ہی ری پبلکن امیدواروں کی حمایت میں کروڑوں ڈالر خرچ کرنے والوں میں شامل ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ تمام 50 ریاستوں میں ایک ہزار انتخابی مبصرین اور نگران تعینات کر رہا ہے۔ محکمے کے مطابق یہ امریکی تاریخ میں انتخابات کے روز نگرانی کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ ڈیموکریٹس نے اس اقدام کو ووٹرز کو خوف زدہ کرنے کی ممکنہ کوشش قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔

پولنگ ختم ہونے اور نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی اس حوالے سے خدشات سامنے آرہے ہیں کہ اگر ری پبلکنز کو شکست ہوئی تو کیا وہ انتخابی نتائج تسلیم کریں گے؟

صدر ٹرمپ 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار اور نتائج تبدیل کرانے کی کوشش کر چکے ہیں۔ وہ متعدد مرتبہ امریکی انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں اور بغیر ثبوت ڈیموکریٹس پر انتخابی بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کی شب وائٹ ہاؤس میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیں گے۔

انہوں نے اس امکان پر بھی ردعمل دیا ہے کہ اگر ری پبلکن پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو وہ ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کیے جانے والے قانون سازی کے اقدامات کی مخالفت کریں گے۔

ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ ہر چیز ویٹو کر دیں گے۔

صدر ٹرمپ نے اکتوبر کے آغاز سے اپنے ووٹرز کو متحرک رکھنے کے لیے دو درجن سے زائد انتخابی جلسے کیے، ان میں سے بیشتر جلسے ایسی ریاستوں میں ہوئے جہاں انہوں نے 2024 کے صدارتی انتخابات میں باآسانی کامیابی حاصل کی تھی۔

ٹرمپ کی قیادت میں ری پبلکنز نے ڈیموکریٹ امیدواروں کو انتہا پسند، غیر امریکی اور حتیٰ کہ کمیونسٹ قرار دے کر بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے 42 سالہ عبدل السید اور 63 سالہ مائیک راجرز کے درمیان مقابلہ اس بات کا اہم امتحان بن گیا ہے کہ آیا ری پبلکنز کی جانب سے شناخت کی بنیاد پر کی جانے والی تنقید انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوتی ہے یا نہیں۔

عبد السید کامیاب ہوئے تو وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر ہوں گے۔ ان کے خلاف ری پبلکن مہم میں ان کی مذہبی شناخت کو بھی موضوع بنایا گیا ہے جب کہ ان کی اپنی جماعت ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس ہیلی اسٹیونز آخری وقت میں عبدل السید کے بجائے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کرچکی ہیں۔

حالیہ مڈٹرم الیکشن کے نتائج وائٹ ہاؤس اور امریکی کانگریس کے درمیان آئندہ دو سالہ تعلقات کی سمت طے کریں گے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles