
ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے ثالثوں کی جانب سے تیار کیے گئے مجوزہ فریم ورک کے چند نکات سامنے آگئے ہیں، جس میں دونوں ممالک کی باہمی رضامندی سے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے، افزودگی کی سطح کم کرنے اور مذاکرات بحال ہونے کے سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کو عالمی جہاز رانی کے لیے کھولنے کی تجاویز شامل ہیں۔
عرب خبر رساں ادارے ’العربیہ‘ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے مجوزہ فریم ورک کا ابتدائی مسودہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں مذاکرات پر عمل درآمد اور معاہدے کی پائیداری یقینی بنانے کے لیے چین کو امریکا-ایران معاہدے میں ممکنہ ضامن ملک کے طور پر شامل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
مجوزہ منصوبے کے تحت واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست مذاکرات استنبول کے بجائے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مسودے کے مطابق ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے بدلے امریکا پابندیوں، ناکہ بندیوں اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی کرے گا۔
العربیہ کے مطابق معاہدے کی شرائط پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا ایک آزادانہ نظام بھی قائم کیا جائے گا۔
مجوزہ مسودے میں تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی شامل ہے، جس کے تحت ثالث اور ضامن ممالک معاہدے پر عمل درآمد میں تاخیر یا خلاف ورزیوں سے متعلق معاملات حل کریں گے تاکہ دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے سے روکا جا سکے۔
گزشتہ دنوں قطر کا ایک وفد ایک ہفتے کے دوران دو مرتبہ تہران کا دورہ کرچکا ہے۔ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس ماہ دو بار تہران جا چکے ہیں۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق جمعے کی صبح تہران پہنچنے والے قطری وفد نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک خط بھی ایرانی سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی کو پہنچایا، جس میں ایران کے خلاف مزید امریکی فوجی حملوں کو روکنے کے لیے ایک نئے سفارتی راستے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔