
فرانس میں مہنگائی، عوامی سہولتوں کی خراب صورت حال اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کے خلاف ہالووین پر ملک گیر احتجاج کے پیشِ نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرلیے گئے ہیں۔ ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کے دوران ممکنہ ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار روکنے کے لیے ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
فرانس میں یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دو ہفتے قبل ہونے والے مظاہروں کے دوران کئی شہروں میں ہنگامہ آرائی، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات میں دکانوں، سرکاری عمارتوں اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچا تھا، جبکہ سیکیورٹی ادارے بھی اچانک پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہوگئے تھے۔
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے واضح کیا ہے کہ حکومت اس مرتبہ ایسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی بدامنی سے نمٹنے کے لیے سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے رواں ہفتے ایک پریس کانفرنس میں سیکیورٹی انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ادارے تیار ہیں اور کسی بھی گڑبڑ کے خلاف انتہائی سخت ردعمل دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ہفتے کا دن بدامنی کے حوالے سے بہت زیادہ خطرے کا حامل ہے۔
چونکہ یہ مظاہرے ہالووین کے موقع پر ہو رہے ہیں، اس لیے حکام کو خدشہ ہے کہ بعض شرپسند عناصر اپنی شناخت چھپانے کے لیے ہالووین کے ماسک استعمال کرسکتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ قانون کے تحت اگر امن و امان کو خطرہ ہو تو پولیس عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے پر پابندی بھی عائد کرسکتی ہے۔
امریکی سفارت خانے نے بھی فرانس کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں جانے سے گریز کریں جہاں احتجاج یا لوگوں کے بڑے اجتماعات متوقع ہیں۔
فرانس میں احتجاجی تحریک ستمبر کے آخر میں اس وقت تیز ہوئی جب صدر میکرون کی اقلیتی حکومت نے 2027 کے بجٹ پر بات چیت شروع کی۔ ملک کا مجموعی قرض معیشت کے حجم کے تقریباً 120 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے، جبکہ قرض لینے کی لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت پر اخراجات کم کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، جس کے باعث عوامی سہولتوں اور مختلف شعبوں کے لیے رقم مختص کرنے میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
مظاہروں میں طلبہ، مزدور تنظیمیں اور مہنگائی کے خلاف دوبارہ سرگرم ہونے والی ’یلو ویسٹ‘ تحریک کے کارکن بھی شامل ہیں۔ طلبہ کو اسکولوں کی خستہ حالت، کلاس رومز میں طلبہ کی زیادہ تعداد اور یونیورسٹیوں میں داخلوں کے نظام پر اعتراضات ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام میں طلبہ کو یکساں مواقع نہیں مل رہے۔
فرانس کے شہر نوگاں سر مارن سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ طالب علم آرون برتیے دے گرانڈری نے بھی مسلسل تیسرے ہفتے احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جب وہ چھوٹے تھے تو انہیں بتایا جاتا تھا کہ نوجوان ہی مستقبل ہیں، لیکن اگر فرانس کے مستقبل یعنی نوجوانوں کو ہی ضروری وسائل میسر نہیں ہوں گے تو ملک کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔