حنا الطاف پاکستان میں رہنے سے خوفزدہ؛ خواتین کے تحفظ پر سوالات اٹھادیے
‘پاکستان میں خواتین نہ آزادانہ زندگی گزار سکتی ہیں، نہ سکون سے سانس لے سکتی ہیں’
پاکستان ٹیلی وژن کی معروف اداکارہ حنا الطاف نے ملک میں خواتین کو درپیش پابندیوں اور عدم تحفظ کے حوالے سے طنزیہ انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی۔
حال ہی میں حنا الطاف نے برطانیہ کا دورہ کیا تاہم برطانیہ سے واپسی سے قبل انہوں نے اپنے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے پاکستان میں خواتین کو درپیش مشکلات پر طنز کرتے ہوئے اپنے تجربات بیان کیے۔
اداکارہ نے کہا کہ برطانیہ میں میرا آخری دن ہے اور کراچی واپس جانے سے پہلے میں لندن میں آخری مرتبہ ناشتے سے لطف اندوز ہونا چاہتی ہوں کیونکہ اس کے بعد مجھے کراچی کی ’’جیل‘‘ میں واپس جانا ہے۔
حنا الطاف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان میں خواتین نہ آزادانہ زندگی گزار سکتی ہیں، نہ سکون سے سانس لے سکتی ہیں اور نہ ہی اپنی مرضی سے آزادی سے لطف اندوز ہو سکتی ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ ملک میں خواتین کے لیے عوامی مقامات پر پیدل چلنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان میں لڑکی ہونا گویا جرم بن گیا ہے۔
اداکارہ نے لندن میں اپنے قیام کو خوش گوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے وہاں بہت اچھا وقت گزارا تاہم ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر خواتین کی آزادی اور تحفظ کے حوالے سے بحث چھڑ گئی۔