'روڈ بنانا کوئی سندھ حکومت سے سیکھے': حیدرآباد کی انوکھی سڑک سوشل میڈیا پر وائرل


سندھ کے شہر حیدرآباد میں علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے تک زیرِ تعمیر سڑک کے عین درمیان میں بجلی کے کھمبوں کی موجودگی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بلدیاتی اداروں کی منصوبہ بندی اور انجینئرنگ کے معیار پر شدید سوالات اٹھ گئے ہیں اور سوشل میڈیا صارفین کو بھی تفریح کا ایک نیا بہانہ مل گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے لیکن کئی مقامات پر بجلی کے کھمبے سڑک کے وسط میں موجود ہیں اور گاڑیاں بمشکل ہی وہاں سے گزر پا رہی ہیں۔
ویڈیو کے سامنے آنے پر شہریوں کی جانب سے شدید حیرت اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر شمع جونیجو نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”میں حیدرآباد کی اس کھمبوں والی سڑک کی ویڈیوز کو اے آئی سمجھ کر اگنور کررہی تھی لیکن یہ شاہکار تو اصلی ہے۔ گینیز بُک والوں کو یہ انجنیئرنگ دکھا دیں، ورلڈ ریکارڈ بن جائے گا۔“

اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما واسع جلیل نے لکھا کہ ”حیدرآباد میں واقع نو تعمیر شدہ روڈ سندھ کے انجینیروں کی کمال مہارت اور ٹیکنالوجی کی اعلیٰ مثال ہے جو پیپلز پارٹی کے ترقیاتی تصور کی بہترین عکاسی کرتا ہے“۔

شائن اسٹائن نامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بھی ایک طنزیہ تبصرہ کیا گیا۔ جس میں سندھ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا گیا کہ ”بچپن میں ایسے ویڈیو گیم ہوتے تھے، سندھ میں انہیں ترقیاتی کام کہتے ہیں“۔

پاکستان نظریاتی پارٹی کے چیئرمین شہیر سیالوی نے بھی طنز کے تیر چلاتے ہوئے لکھا: ”بس گٹر لائن کی کمی رہ گئی تھی درمیان میں“۔

شہریوں نے اعتراض اٹھایا ہے کہ سڑک کی ساخت اور ایسفالٹ بچھانے سے پہلے بجلی کی تنصیبات کی منتقلی کو یقینی بنایا جانا چاہیے تھا تا کہ بعد میں کھمبے ہٹانے سے سڑک پر جگہ جگہ گڑھے نہ بنیں اور عوام حادثات سے محفوظ رہ سکیں۔
کمال خان نامی ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ سڑک کی تعمیر کا طریقہ کار سندھ حکومت سے سیکھنا چاہیے۔

دوسری جانب میئر حیدرآباد کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو اور عوامی تحفظات پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے تک سڑک کا منصوبہ تاحال غیر فعال اور زیرِ تعمیر ہے۔
صحافی غضنفر عباس کے مطابق، میئر کے ترجمان نے بتایا کہ منصوبے کے ماسٹر پلان کے تحت سڑک کے راستے میں آنے والے مجموعی طور پر 162 بجلی کے کھمبوں کو منتقل کیا جانا ہے، جبکہ 27 میں سے 10 بجلی کے فیڈرز کی منتقلی کا کام پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ منصوبے پر کام جاری ہے اور انہوں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ سڑک کی مکمل تعمیر اور باقاعدہ افتتاح تک اس راستے کو آمدورفت کے لیے استعمال کرنے سے گریز کریں۔

تاہم سوشل میڈیا صارفین اور مقامی رہائشیوں نے موقف اختیار کیا کہ سڑک کی تعمیر کے دوران بجلی کے کھمبوں اور دیگر سروسز کی منتقلی کو اولین ترجیح بنایا جانا چاہیے تھا تاکہ عوام کو سفری مشکلات اور کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچایا جا سکے، کیونکہ اب کھمبے ہٹانے کی صورت میں نئی تعمیر شدہ سڑک کو دوبارہ اکھاڑنا پڑے گا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles