
امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ تاریخ، قانون، مذہب، معاشرت، آبادیات، جغرافیہ اور معیشت سمیت ہر پہلو جموں و کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی حمایت کرتا ہے۔
واشنگٹن میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر پاکستانی سفارت خانے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور مسئلے کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے پاکستان کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کے خصوصی پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی اقدامات اور کشمیری عوام کو درپیش مشکلات پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی۔
رضوان سعید شیخ نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج کی جموں و کشمیر میں آمد تاریخ کا ایک المناک باب ہے، جس کے اثرات آج بھی علاقائی امن سے جڑے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق بھارت نے تقسیمِ ہند کے اصولوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے برعکس جموں و کشمیر پر قبضہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی قومی شناخت اور وقار سے جڑا ہوا ہے اور اس سے دستبردار نہیں ہوا جاسکتا۔
پاکستانی سفیر نے تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برصغیر میں برطانوی دور کے دوران تقریباً 560 الگ الگ ریاستیں موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت پر قومی اتفاقِ رائے موجود ہے اور اس مؤقف میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے زور دیا کہ یومِ سیاہ کشمیر منانے کا بنیادی مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازع کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے عزم کی تجدید کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کے طے کردہ قانونی دائرے سے باہر نکلنا اصل مقصد سے انحراف ہوگا۔
تقریب سے فاؤنڈیشن فار امریکن سیکیورٹی اینڈ ٹیکنالوجی کے صدر علی رضا عنار، دی کامن گراؤنڈز آف یو ایس اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ڈسکور پاکستان ٹی وی کے صدر ذوالفقار علی کاظمی، اور پالیسی تجزیہ کار مواحد حسین شاہ نے بھی خطاب کیا۔
مقررین نے اکتوبر 1947 کے واقعات اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی و سیاسی بحران کے تاریخی، قانونی اور سیاسی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
اختتامی خطاب میں رضوان سعید شیخ نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی اقدامات اور مظالم کا سامنا کررہے ہیں، جبکہ مقبوضہ علاقے کی صورتحال عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی فوری توجہ چاہتی ہے۔ انہوں نے واشنگٹن، لندن، نیویارک، جدہ اور برسلز سمیت مختلف شہروں میں مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر متفقہ مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کریں۔
تقریب کے اختتام پر پاکستانی سفیر نے تمام مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا، جو کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سفارت خانے میں جمع ہوئے تھے۔