مصری پارلیمنٹ نے سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کی منظوری دے دی

یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں شدت آنے کے بعد مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں مصر مشرقِ وسطیٰ کے پھیلتے ہوئے تنازع میں براہِ راست شامل ہوسکتا ہے تاہم مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے واضح کیا ہے کہ مصر کی مدد سعودی عرب کی سرزمین اور سرحدوں کے دفاع تک محدود ہوگی، یمن پر حملوں کے لیے نہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کو مصری پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی منظوری دی، جس کی تصدیق ارکانِ پارلیمنٹ نے کی جب کہ مقامی میڈیا نے بھی اس فیصلے کی رپورٹ دی۔

اس سے قبل مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اگر سعودی عرب حوثی باغیوں کے حملوں کے خلاف مدد طلب کرے تو مصر کو اپنے خلیجی اتحادی کے دفاع کے لیے اقدامات کی اجازت دی جائے۔

یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے حملوں میں حالیہ ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ حوثی باغی دارالحکومت صنعا سمیت یمن کے بڑے علاقوں پر قابض ہیں اور سعودی عرب کے خلاف حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ان حملوں نے سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے میں تیل کی ترسیل اور فضائی آمدورفت کو بھی متاثر کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور سعودی تیل کمپنی آرامکو کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پروازوں اور تیل کی برآمدات میں خلل پڑا۔ یمن میں جاری لڑائی کے باعث پہلے ہی انسانی بحران کا شکار آبادی کی مشکلات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

مصر کی فوجی مدد کی حدود کیا ہوں گی؟

مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد نے گزشتہ بدھ کو سعودی عرب کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر السیسی کا خط سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو پہنچایا۔ مصری صدر کے پیغام کے مطابق مصر کی جانب سے ممکنہ فوجی مدد کا مقصد سعودی سرزمین اور سرحدوں کا دفاع ہوگا، نہ کہ یمن پر حملے کرنا۔

دورے کے بعد مصری وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ یمن کے تنازع کو حل کرنے کے لیے سفارتی راستے تلاش کیے جانے چاہئیں۔ مصر کا مؤقف ہے کہ لڑائی کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے مذاکرات سمیت تمام ممکنہ سفارتی مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔

باب المندب اور نہر سوئز کی اہمیت

مصر کے لیے سعودی عرب کا دفاع صرف دوطرفہ تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت اور عالمی تجارت کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ حوثی باغیوں کی پیش قدمی اور حملوں سے آبنائے باب المندب کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ یہ اہم بحری گزرگاہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے اور نہر سوئز کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں کشیدگی بڑھنے سے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہوسکتی ہے، جس کے اثرات مصر کی نہر سوئز سے حاصل ہونے والی آمدن اور عالمی سپلائی چین پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

سعودی عرب اور مصر کے دفاعی تعلقات

مصر نے اس سے قبل مارچ 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد میں حصہ لیا تھا۔ اس وقت مصر نے بنیادی طور پر بحری تعاون فراہم کیا اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے جنگی جہاز بھیجے تھے جب کہ فضائی مدد فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔ مصر نے تقریباً 800 زمینی فوجی بھی تعینات کیے تھے تاہم اس کا جنگی کردار محدود رہا۔

مصر کی یمن میں فوجی مداخلت کی تاریخ بھی رہی ہے، 1960 کی دہائی میں مصر نے یمن میں مہنگی فوجی مہم چلائی تھی جب کہ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے اس نے بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر زمینی فوج تعینات نہیں کی۔

سعودی عرب مصر کا اہم سیاسی اور مالی شراکت دار ہے، سعودی حکومت نے صدر السیسی کے دور میں مصر کو اربوں ڈالر کی مالی معاونت، مرکزی بینک میں رقوم اور توانائی کی فراہمی کے ذریعے مدد دی ہے، دونوں ممالک کے تعلقات میں بحیرہ احمر کی سلامتی اور خطے میں استحکام کو بھی اہمیت حاصل ہے۔

علاقائی دفاعی معاہدے میں مصر کی شمولیت پر غور

مصر طویل عرصے سے خلیجی ممالک پر ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے حملوں کی مذمت کرتا آیا ہے تاہم اس نے اب تک حوثی باغیوں کے خلاف براہِ راست جنگ میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی۔ مصر سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان اگست میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کا بھی حصہ نہیں ہے۔

مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے رواں ماہ کہا تھا کہ اس معاہدے میں مصر کی شمولیت پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے تاہم اب تک مصر کی جانب سے اس حوالے سے حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے 15 ستمبر کو قاہرہ میں صدر السیسی سے ملاقات کی تھی، جس میں یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے تناظر میں علاقائی سلامتی اور بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

حوثی باغیوں کے حملوں میں اضافے اور مصر کی پارلیمنٹ کی جانب سے فوجی مدد کی منظوری کے بعد خطے کی صورت حال مزید حساس ہوگئی ہے۔ تاہم مصر کی ممکنہ عملی فوجی شمولیت کی نوعیت اور دائرۂ کار کے بارے میں حتمی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں، جبکہ قاہرہ سفارتی کوششوں کے ذریعے یمن کے تنازع کو حل کرنے پر بھی زور دے رہا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles