
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے افسر کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں معاونت کے لیے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے افسر کو جے آئی ٹی کا حصہ بنا دیا گیا ہے، این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر کو جے آئی ٹی کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے این سی سی آئی اے نے محکمہ داخلہ سندھ کو خط بھی ارسال کردیا ہے، خط کے مطابق این سی سی آئی اے کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں ڈیجیٹل شواہد کے حصول اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔
تحقیقات کے دوران موبائل فونز، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور کرپٹو کرنسی سے متعلق ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ کیس کے مختلف پہلوؤں کی جانچ میں مدد مل سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ این سی سی آئی اے کی شمولیت سے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں تکنیکی معاونت حاصل ہوگی جب کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم شواہد کی بنیاد پر معاملے کی مزید تفتیش جاری رکھے گی۔
میر رضا کیس کا پس منظر
واضح رہے کہ کراچی کا 25 سالہ نوجوان تاجر میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں اپنی رہائش گاہ سے لاپتا ہوئے تھے جب کہ اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر کے ایک ویران مقام سے ملی۔ پولیس نے ابتدا میں واقعے کو ممکنہ خودکشی کے طور پر دیکھا تاہم اہلِ خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قتل کا شبہ ظاہر کیا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم اور پولیس کی تفتیش پر سوالات اٹھنے کے بعد عدالت نے 6 اگست کو قبرکشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کی اجازت دی، میڈیکل بورڈ کی تشکیل پر تنازع کے باعث کارروائی میں تاخیر ہوئی اور بالآخر 8 اگست کو قبرکشائی کرکے میر رضا کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گولی کے زخم اور اس کے جسم سے گزرنے کے راستے سے متعلق تفصیلات سامنے آئیں، جنہیں خودکشی کے ابتدائی مؤقف سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا گیا۔ اس کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کی گئی۔
معاملے کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت نے 24 اگست کو سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں عدالتی کمیشن قائم کیا تاہم کمیشن نے واقعے کے حالات، پولیس کی ابتدائی تفتیش، طبی شواہد اور شواہد جمع کرنے کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا۔
2 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے اہلِ خانہ کی جانب سے آزاد اور کثیر ادارہ جاتی جے آئی ٹی بنانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جے آئی ٹی تشکیل دینا حکومت کا اختیار ہے۔
20 اکتوبر کو کمیشن نے 62 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں پولیس کی تفتیش کو شدید ناکامی قرار دیا جب کہ کمیشن کی رپورٹ میں میر رضا کی موت کو قتل قرار دیا گیا اور پولیس کی تفتیش میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ میں مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دینے اور ممکنہ غفلت یا شواہد میں رد و بدل کے پہلوؤں کی جانچ کی سفارش بھی کی گئی۔
عدالتی کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں 24 اکتوبر کو سندھ حکومت نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی، جے آئی ٹی میں رینجرز، وفاقی انٹیلی جنس اداروں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نمائندے بھی شامل ہوں گے جب کہ تحقیقاتی ٹیم کو واقعے سے متعلق شواہد کا ازسرنو جائزہ لینے اور ابتدائی تفتیش میں سامنے آنے والے سوالات کا جواب تلاش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
تازہ پیش رفت میں این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر کو بھی جے آئی ٹی کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔ کیس میں اب تک سامنے آنے والی پیش رفت کے باوجود قتل کے ذمہ دار افراد، واقعے کے محرکات اور ممکنہ سہولت کاروں کا حتمی تعین ہونا باقی ہے۔ ان پہلوؤں سے متعلق مزید حقائق جے آئی ٹی کی تحقیقات اور متعلقہ قانونی کارروائی کے بعد سامنے آسکتے ہیں۔